تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 500
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جغرافیائی خط، جس پر آپ کھڑے ہو کر جتنی دفعہ چاہیں، ماضی یا مستقبل میں چلے جائیں۔ایک قدم پر لی طرف رکھیں تو کل کی تاریخ اور ایک قدم ادھر رکھیں تو آج کی تاریخ آجائے گی۔گویا یہ وہ ملک ہے، جہاں ماضی اور مستقبل کے افق مل رہے ہیں۔اگر چہ خط تو سمندروں پر سے ہر جگہ گزر رہا ہے لیکن ایک باقاعدہ آباد ملک نبی ہی ہے، جہاں سے وہ خط گزرتا ہے۔اس لئے اسے خاص اہمیت حاصل ہے۔اور اسی نقطۂ نگاہ سے اسے زمین کا کنارہ بھی کہا جاتا ہے۔کیونکہ زمین تو گول ہے، اس کا ویسے تو کوئی کنارا نہیں ہوسکتا۔ہاں جہاں دن رات ملتے ہیں اور جہاں تاریخیں بدلتی ہیں، اس پہلو سے ایک کنارہ ضرور آجاتا ہے۔پس اس نقطہ نگاہ سے اسے ہمارے علم کلام میں یہ اہمیت حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“۔تو ظاہری معنوں میں بھی یہ ایک کنارہ ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو تبلیغ پہنچانے کی توفیق عطا فرمائی۔اور اب میں بھی وہاں اسی نیت سے جارہا ہوں کہ جماعت کو منظم کروں اور وہ ایک نئی روح اور نئے ولولے کے ساتھ بہت تیزی سے اس ملک میں روحانی لحاظ سے غالب آجائے۔لہذا بہت کثرت سے دعاؤں کی ضرورت ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے گزشتہ سفر میں تجربہ کیا تھا، ہماری ساری طاقت اور ہر کام کی بناء دعا پر ہے۔جتنی کثرت سے لوگ اللہ تعالیٰ سے نہایت عاجزی، گریہ وزاری، محبت اور پیار کی اداؤں سے مانگیں گے، اتنا ہی وہ عطا کرتا چلا جائے گا۔اس کے ہاں کوئی کمی نہیں۔اس لئے احمدیوں کو ان دعاؤں میں لگ جانا چاہئے۔ہر احمدی جو دعا کر بے گا، اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ضرور فضل ظاہر فرمائے گا۔جتنی زیادہ دعائیں ہوں گی ، اتنے ہی زیادہ وہ فضل فرمائے گا۔اس کے علاوہ بھی بعض ملک ہیں، جہاں اس سفر کے دوران کچھ عرصہ کے لئے قیام ہو گا۔مثلاً ایک سنگا پور ہے ، وہاں انشاء اللہ تعالیٰ قیام کا خیال ہے۔اور پھر واپسی پر آخری قدم سیلون پر رکھ کر انشاء اللہ تعالیٰ کراچی واپس آنا ہے۔پروگرام مختصر ہے، زیادہ لمبا نہیں۔تقریباً سوا مہینہ کا پروگرام ہوگا۔لیکن مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ایسی جماعتیں، مثلاً مجھی اور آسٹریلیا والے روز روز یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ خلیفة المسیح وہاں ان کے پاس پہنچے۔اس لئے ان کا رجحان اس موقع پر ویسا ہی ہوتا ہے، جیسے سونے کے انڈے دینے والی بطخ کے متعلق ایک شخص کا رجحان تھا۔اس نے کہا یہ تو روز ایک انڈا دیتی ہے، اب اتفاق سے قابو آئی ہوئی ہے، اسے ذبح کر کے سارے انڈے اکٹھے ہی کیوں نہ نکال لوں ؟ تو ایسی 500