تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 458 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 458

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 27 مئی 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک کے مقابلے کی کہانی ہے، جسے قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ پر آخر پر نتیجہ نکال کر ہمارے سامنے پیش کیا۔اس میں شک نہیں کہ دلائل یقینا سچائی کے ساتھ ہوا کرتے ہیں اور براہین قاطعہ ہمیشہ بچوں کے ساتھ ہوا کرتی ہیں۔اور یہ دلائل مختلف شکلیں بناتے ہیں اور مختلف قوموں کے سامنے مختلف صورتوں میں آتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ متنبہ کرنا چاہتا ہے کہ تم یہ نہ سمجھ لینا کہ چونکہ دلائل ہمارے ساتھ ہیں، اس لئے دلائل کے زور پر ہم فتح پا جائیں گے۔جن قوموں سے تمہارا مقابلہ ہے، ان میں ایسی بھی ہیں، جو دلائل کو نہیں مانیں گی۔وہ دلائل کے میدان میں جتنی زیادہ شکست کھائیں گی، اتنازیادہ ان کا غصہ بڑھتا چلا جائے گا۔پس محض دلائل کے برتے پر تم اس دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔تمہیں لازما میری طرف جھکنا پڑے گا اور مجھ سے تعلق بڑھانا پڑے گا۔کیونکہ ایسا وقت آنے والا ہے کہ تمہارے سارے دلائل بے کار چلے جائیں گے اور تمہیں بچانہیں سکیں گے بلکہ برعکس نتیجہ پیدا کر دیں گے۔تمہارے دلائل دلوں کو نرم کرنے کی بجائے انہیں اور زیادہ سخت کر دیں گے۔احساس خفت انتقام میں تبدیل ہو جائے گا۔تب صرف میں ہوں، جو تمہیں بچا سکتا ہوں۔اس لئے دلائل پر انحصار نہیں کرنا، ہمیشہ میری ذات پر انحصار کرنا ہے، میری طرف جھکنا ہے، مجھ سے تعلق جوڑنا ہے۔پس اس راز کو کسی احمدی کو کبھی نہیں بھلانا چاہیے۔آج ہمارا مختلف زمانوں سے مقابلہ ہے، کسی ایک زمانے سے مقابلہ نہیں ہے۔ایسی قومیں بھی آج دنیا میں آباد ہیں، جن کے عقائد ان لوگوں جیسے ہیں، جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے مقابلہ کیا تھا۔ایسی قو میں بھی آباد ہیں ، جن کے عقائد ان لوگوں جیسے ہیں، جنہوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے مقابلہ کیا تھا۔ایسی قومیں بھی ہیں، جن کے اعمال حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے اعمال کی طرح ہو گئے ہیں۔اور ایسی قومیں بھی ہیں جن کے اعمال لوط کی قوم کے اعمال کی طرح ہو گئے ہیں۔پس وقت آ گیا ہے کہ قرآن کی یہ پیشگوئی پوری ہو، وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ (المرسلات : 12) کیونکہ آج سب نبیوں کی تو میں ہمیں مختلف خطہ ہائے ارض پر پھیلی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔عقائد کے لحاظ سے بھی وہ سارے باطل عقائد آج دنیا میں موجود ہیں، جو مختلف انبیاء کے زمانے میں پیدا ہوتے رہے اور اعمال کے لحاظ سے بھی وہ سارے بد اعمال آج دنیا میں موجود ہیں، جو مختلف انبیاء کے زمانے میں قوموں کو گندگی سے بھر دیتے رہے۔458