تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 436
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 15 اپریل 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ان کو کوئی گر مل جائے یا کوئی اچھا موقع تجارت کا میسر آجائے تو وہ اسے اپنے تک محد و در کھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کوئی اور اس میدان میں داخل نہ ہو۔ہمارے اطباء میں بھی یہ مرض پایا جاتا ہے۔لوگوں کو تو شفا دیتے ہیں لیکن ان کو اپنے اس مرض کی شفا نہیں۔کوئی اچھا نسخہ ہاتھ آ جائے ، جس سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ دبا کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ چٹکلا صرف ان سے ہی ملے گا۔اسی طرح ہمارے صنعتکاروں میں بھی یہ بیماری ہے بلکہ ہمارے دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں بھی یہ بیماری پائی جاتی ہے۔اس بیماری کے ساتھ بعض صورتوں میں فرد کی ترقی کی ضمانت تو دی جاسکتی ہے لیکن قومی ترقی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔بلکہ یہ علامت قومی تنزل کی ضمانت بن جاتی ہے۔چنانچہ آپ مشرق اور مغرب کی ترقیات کا مقابلہ کریں یا تنزل اور ترقی کا مقابلہ کریں تو ایک بہت بڑا امر، جو کار فرما نظر آئے گا، وہ یہی ہے۔ہمارے ہاں یہ بات رواج پکڑ گئی کہ جس کو کوئی علم ملا، اس نے سینہ بہ سینہ اپنی اولاد میں چلانا شروع کر دیا۔اور یہ سینہ بہ سینہ کا محاورہ سوائے مشرق کے دنیا میں اور کہیں ملتا ہی نہیں۔عجیب و غریب محاورہ ہے۔اور لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ راز سات پشتوں سے سینہ بہ سینہ ہمارے خاندان میں چلا آرہا ہے۔راز سینہ بہ سینہ تو آرہا ہے لیکن ساری قوم کو دفن کر گیا۔مغرب نے اس کے برعکس اپنے علوم کو تر ویج دی ہے۔اگر کسی کے ہاتھ چھوٹا سا نکتہ بھی آیا ہے تو اس نے اس کی تشہیر کی ہے اور تمام قوم کو اس میں شامل کیا ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہر فردا کی دولت ساری قوم کی دولت بن گئی ، صرف اس کی ذاتی دولت نہ رہی۔اس طرح ہر فرد نے جو سیکھا، وہ بھی اس کو مل گیا اور اس نے آگے دوسروں کو بھی عطا کیا۔37 پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا، وہ اعلیٰ مقصد ہے، جس کی طرف قرآن کریم مسلمانوں کو بلاتا ہے۔اور جس کی طرف قرآنی ارشاد فاستبقوا الخیرات کے تابع میں تمام احباب جماعت کو بلا رہا ہوں۔میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ اپنے دیانت اور تقویٰ کے معیار کو بلند رکھتے ہوئے محض خدا کی خاطر ہر بھلائی میں دنیا سے آگے نکل جائیں گے۔اور جتنا زیادہ آگے بڑھیں گے، اتنا زیادہ دنیا پر خرچ بھی کریں گے۔آپ کی تو کوئی حد نہیں ہے۔آپ تو وہ قوم ہیں، جن کے امام کے متعلق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ وہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا ہوگا۔فرمایا۔لو كان الايمان عند الثريائناله رجال او رجلٌ من هؤلاء ( بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورة الجمعة باب قوله تعالى واخرین مهم لنا الحقوا بهم 436