تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 432

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک چاہئے کہ ہر کھیل میں باقی سب سے آگے بڑھیں۔اس لئے جو سلمہ کھیلیں ہیں، ان کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔یہ درست ہے کہ آہستہ آہستہ کبڈی افریقہ میں بھی رائج ہو سکتی ہے، انڈونیشیا میں بھی رائج ہو سکتی ہے۔بلکہ موسم کے لحاظ سے جہاں جہاں انسان اس کو قدرتی طور پر طبیعی طور پر کھیل سکتا ہے ، وہاں رائج ہو جانی چاہئے۔لیکن جو مروجہ کھیلیں دنیا کو سلم ہو چکی ہیں، ہم ان کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔اور ان میدانوں میں بھی وو ہمیں لازم دوسروں کو شکست دینی ہوگی۔میری خواہش ہے کہ ہر کھیل میں مسلمان آگے بڑھیں“۔تمام دنیا کے احمدیوں کو چاہئے کہ جہاں جہاں کسی کھیل کا کوئی اچھا کھلاڑی موجود ہو، وہ مجلس صحت مرکزیہ کو اطلاع دے تا کہ با قاعدہ نظم وضبط کے ساتھ ان کو مختلف ٹیموں میں ڈھالا جا سکے۔اور پھر جہاں تک ممکن ہو، یہ کوشش کی جائے کہ ہر کھیل کی ایک احمدی ٹیم دنیا میں پیدا ہو جائے۔یہ درست ہے کہ کھیلوں کا جو طریق اس وقت رائج ہے، اس کے لحاظ سے ہم انٹر نیشنل یعنی بین الاقوامی مقابلوں میں احمدی ٹیم کے طور پر ان کو داخل نہیں کر سکتے۔لیکن اگر ہم ایسانہ بھی کر سکیں ، جب بھی یہ احساس کہ نہایت اعلیٰ معیار کی ایک احمدی ٹیم تیار ہو چکی ہے، جو واقعہ دنیا کی صف اول کی ٹیموں میں شمار ہو سکتی ہے، ایک بہت بڑی نعمت ہے۔یہ احساس ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی حمد کو اجاگر کرے گا اور اس کی حمد کی طرف توجہ پیدا کرے گا۔ہم خدا کا شکر ادا کریں گے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں گے کہ آپ نے ہمارے لئے کتنا شاندار صح نظر مقرر فرمایا۔اور پھر اس کی پیروی کی راہیں بھی ہم پر آسان کر دیں۔اور آج ہم دنیا کو کہہ سکتے ہیں کہ فاستبقوا الخیرات کے طمح نظر کے پیش نظر ہم فلاں چیز میں سبقت لے گئے۔پھر بین الاقوامی مقابلوں میں جہاں میڈل ملتے ہیں، وہاں بیشک احمدی ٹیمیں داخل نہ ہوسکیں لیکن دنیا کی کوئی کلب بھی کسی نام پر بھی اچھی ٹیموں کو چیلنج کر سکتی ہے اور کھیل سکتی ہے۔اس طرح عملاً دنیا کے سامنے ہم یہ ضرور ثابت کر سکتے ہیں کہ خواہ تم ہمیں میڈل دویانہ دو اور خواہ تمہاری کھیلوں کا نظام ہمیں بحیثیت احمدی ٹیم کے (Recognise) یعنی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ غلام اس میدان میں بھی دوسروں کے آگے نکل جائیں گے۔انشاء اللہ۔یہ وہ مقصد ہے، جسے ہم نے انشاء اللہ پورا کرنا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، یہ صرف ایک چھوٹا سا شعبہ ہے۔ہمیں تو ہر نیکی میں آگے بڑھنا ہے بلکہ نیکی کی ہر شاخ میں آگے نکلنا ہے۔اسی غرض سے میں نے مجلس شوری میں توجہ دلائی تھی کہ ہمیں ٹریڈ اور انڈسٹری میں بھی تمام دنیا سے آگے نکلنا ہے، سائنس میں بھی آگے نکلنا ہے۔اور پھر سائنس کے نتیجے میں جو انسان عملاً جو صنعتی ایجادات کرتا اور انڈسٹری 432