تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 420
ارشادات فرمودہ 102 اپریل 1983ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، سیلون، ماریشس اور اب امریکہ میں بھی یہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔جب آپ مجموعی طور پر طائرانہ نظر ڈالیں گے تو جماعت بحیثیت مجموعی Large nubmers بن جائے گی۔میرے علم میں ہے کہ بعض ممالک میں لڑکوں کے مسائل پیدا ہورہے ہیں اور بعض ممالک میں لڑکیوں کے مسائل پیدا ہور ہے ہیں۔اس لئے ان کے اندرونی رشتوں کے نظام کو بڑی حکمت کے ساتھ جاری کرنے کی ضرورت ہوگی۔اس احتیاط کے ساتھ کہ ہم صرف تجویز کریں گے، اس کے بعد پھر والدین کا اپنا کام ہے کہ پوری ذمہ داری سے اسے قبول کریں یارڈ کر دیں۔جماعت کا کام صرف کوائف مہیا کرنا ہو گا۔اس کے متعلق غور ہونا چاہئے۔وہ کیا طریق کار ہے، جو اختیار کیا جائے؟ اس بارے میں ایک نیا نظام مرکز سلسلہ میں قائم کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ رشتہ ناطہ کے سلسلہ میں بین الاقوامی مسائل حل کرنے کے لئے اور کوائف کے بین الاضلاع تبادلہ کے لئے اور بین الاقوامی تبادلہ کے لئے ایک مرکزی کمیٹی قائم کی جائے گی، اس میں تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کے دو، دو نمائندے ہوں گے، جو وہ بعد میں پیش کر دیں گے۔اور دو نمائندگان امراء اضلاع میں سے پیش کئے جائیں گے۔صوبائی امیر کی حیثیت سے مکرم مرزا عبدالحق صاحب اس موقع پر اپنے دائرہ کار کو پاکستان تک ممتد کر دیں اور سارے پاکستان میں سے دو امراء پیش کریں، جو ان مسائل پر ضلعی نقطہ نگاہ کو اس کمیٹی کے سامنے پیش کیا کریں گے۔صوبہ سرحد کا ذکر کرنا میں بھول گیا تھا، وہاں بھی بعض جگہوں پر یہ مسائل کافی سنگین شکل اختیار کر گئے ہیں۔اس کمیٹی کا ایک کام تو یہ ہوگا کہ وہ بین الاضلاع، بین الا قوام اور بین المالک رابطه احسن رنگ میں قائم کرنے پر غور کرے گی اور دوران سال غور وفکر کے بعد اپنی تجاویز منظور کروا کران پر عملدرآمد کا بھی انتظام کرے گی۔اس کمیٹی کا دوسرا کام یہ ہوگا کہ وہ مسائل جو بحیثیت مسائل قابل توجہ ہیں یعنی جماعت میں بد رسومات داخل ہورہی ہیں یا غلط رجحانات روک بن گئے ہیں۔مثال کے طور پر کہیں خاندانی رسم و رواج سراٹھا کر اسلامی رشتہ ناطہ کے نظام میں حائل ہورہے ہیں یا اچھوت کا تصور حائل ہورہا ہے۔کمیٹی اس کا تجزیہ کرے کہ ایسے تصورات کس حد تک جائز طور پر حائل ہورہے ہیں اور کہاں تک ناجائز طور پر حائل ہو رہے ہیں؟ جائز طور پر اس طرح حائل ہو سکتے ہیں کہ اچھوت اقوام کے رشتوں میں مشکل یہ نہ ہو کہ قومی نفرت کی وجہ سے وہ رڈ کئے جارہے ہوں بلکہ یہ روک ہو کہ اسلام کفو کی جو شرط لگا رہا ہے اور دین کی جو شرط عائد کر رہا ہے، وہ پوری نہیں ہو رہی۔اس لئے ہم لازماً اس بات کو رد نہیں کر سکتے کہ چھوت چھات کو بالکل 420