تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 419

تحریک جدید - ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد ششم - ارشادات فرمودہ 02 اپریل 1983ء رشتہ ناطہ کے مسائل اور نظام جماعت کی ذمہ داری ارشادات فرمودہ 102 اپریل 1983ء بر موقع مجلس شوریٰ اس مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے، جس پر غور نہیں ہوا۔اور وہ ہے، جماعت کی بین الاقوامی حیثیت۔اسی لئے میں نے بار بار تحریک جدید سے کہا تھا کہ وہ اپنا نمائندہ پیش کرے۔اب تحریک جدید کی جو بین الاقوامی انتظامی حیثیت ہے، اسے بھی مد نظر رکھ لیں تو رابطہ کے لئے پھر تین صورتیں سامنے آتی ( یعنی ضلعی ، بین الاضلاعی اور بین الاقوامی) ایک ضلع میں اندرونی رابطہ، جسے ضلع کی سطح پر بہت حد تک احسن رنگ میں حل کیا جا سکتا ہے۔جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ امراء اضلاع باپ کے فرائض ادا کریں اور اپنی مجالس کو ایسا پاکیزہ رنگ دیں کہ ان کے اندرونی مسائل بڑے اہتمام اور احتیاط سے اس طرح زیر بحث آئیں ، جس طرح ایک گھر کے اندرونی مسائل زیر بحث آتے ہیں۔دوسرا ہے، ضلعوں کا آپس کا رابطہ۔اور تیسرا ہے، ملکوں کا آپس کا رابطہ۔اس کے لئے کیا شکل ہو گی ؟ بہت سی جماعتیں ایسی ہیں، جہاں یہ مسائل انتہائی سنگین صورتیں اختیار کر گئے ہیں۔اور پاکستان کو بھی لازما ان سے تعاون کرنا پڑے گا اور رابطہ کا نظام قائم کرنا ہوگا۔یہ ہے اصل قابل توجہ مسئلہ، جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔مثلاً سری لنکا ہے اور اس قسم کے علاقے ہیں، مثلاً ماریشس ہے اور کشمیر بھی ان علاقوں میں سے ہے، جہاں کثرت سے یہ مسائل سامنے آنے لگے ہیں۔یہ ایک طبعی بات ہے کہ رشتہ ناطہ کے مسائل میں جب تک تعد اوزیادہ نہ ہو، رشتہ ناطہ کے مسائل از خود حل نہیں ہوتے۔ان معاملات میں Law of Large numbers کام کرتا ہے۔اگر کسی ملک میں بکثرت احمدی ہو جائیں تو اس مسئلہ پر ایک نظام از خود کا ٹھی ڈال لیتا ہے۔اور ایک دوسرے سے با ہم رابطہ سے مسائل خود بخود حل ہونے لگ جاتے ہیں۔لیکن تبلیغ کے ذریعے پھیلنے والی جماعت جب ایک نئے ملک یا نئی قوم میں داخل ہوتی ہے، جیسا کہ تھر پارکر میں نو مسلم بن رہے ہیں، ایسی قوموں سے لوگ مسلمان ہو رہے ہیں، جنہیں اچھوت سمجھا جاتا تھا ، وہاں جو مسائل پیدا ہوں گے ، انہیں حل کرنے کی ذمہ داری ساری جماعت پر عائد ہوتی ہے۔419