تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 418

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 مارچ 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم تقدیر شامل ہو جائے ، اسے دنیا میں کون شکست دے سکتا ہے؟ اس لئے اس یقین کامل کے ساتھ وہ قوم زندہ رہتی ہے اور یہ یقین ہمیشہ سچا نکلتا ہے۔آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک اور پھر اس زمانے میں اپنی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں ، کس دن خدا نے اپنے ان کمزور بندوں کو اکیلا چھوڑا ہے؟ کس دن خدا نے اجازت دی ہے کہ دنیا والے ان نسبتے درویشان انہی کو شکست دیں؟ نہ پہلے کبھی ایسا ہوا، نہ آئندہ کبھی ایسا ہو گا۔6 tho اس لئے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کی نصرت اب بھی ضرور آئے گی۔آپ دعاؤں سے کام لیں۔ہمارے ہتھیار دعائیں ہیں، ہمارے تمام اسباب کا شہتیر دعائیں ہیں۔اسباب کے بالے دعاؤں کے شہتیر پر لٹکے ہوئے ہیں۔اگر آپ دعاؤں سے غفلت نہیں کریں گے، اگر آپ کا تو کل کامل ہوگا تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ آپ کا ساتھ دے گی۔یہ ایک اہل تقدیر ہے، جو لازما آپ کے لئے ظاہر ہوگی اور پہلے بھی ہمیشہ ظاہر ہوتی رہی ہے۔خدا ایک ایسا وفادار دوست ہے کہ دنیا میں اس جیسی وفادار ہستی کبھی کسی نے نہیں دیکھی۔وہ ایک ایسا طاقتور دوست ہے کہ اس کے مقابل پر دنیا کی ساری طاقتیں بیچ ہو جایا کرتی ہیں۔اور جس طرح سیلاب کے مقابل پر تنکے بہہ جاتے ہیں، اسی طرح دنیا کی طاقتیں خدا کی طاقت کے مقابل پر بہ جایا کرتی ہیں اور کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔کبھی وہ خاک بن کر اڑ جاتی ہیں کبھی وہ اپنی ہی آگ میں بھسم ہو جایا کرتی ہیں۔خدا کی ایک تقدیر میں ہزار تقدیریں ہیں، جو اپنا کام کر دکھاتی ہیں۔اس لئے آپ ثابت قدم رہیں، آپ اپنے تو کل کے مقام سے نہ نہیں، آپ اپنی دعاؤں میں انتہا کر دیں۔پھر دیکھیں کہ کس طرح میرے مولیٰ کی نصرت آپ کی مدد کے لئے دوڑی چلی آئے گی۔چند دن صبر کر کے دیکھیں، آپ لازم یہ نظارہ دیکھیں گے کہ یہ جو آفات و مصائب کے بادل ہیں، جو خون برسانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، انہی میں سے آپ کے لئے قطرات محبت نیکیں گے۔ان جان لینے والوں میں جان فدا کرنے والے دوست پیدا ہوں گے۔احمدیت کے غلبہ کی تقدیر، ایک اٹل تقدیر ہے۔اس نے جاری وساری رہنا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت نہیں، جو اس تقدیر کو بدل سکے۔انشاء اللہ تعالی۔( مطبوعه روزنامه الفضل 07 جون 1983ء) 418