تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 417
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 مارچ 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہور ہے تھے کہ یقینی فتح کی خوشخبری دی جارہی ہے۔لیکن دیکھنے والے نے کچھ اور نتیجہ نکالا۔اس نے کہا کہ میں یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد تمہیں واپس جانے کا مشورہ دیتا ہوں، تمہارے مقدر میں یقیناً شکست لکھی گئی ہے۔کفار مکہ کے سرداروں نے بڑے تعجب سے اس سے سوال کیا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم باتیں کچھ اور کر رہے ہو اور نتیجہ کچھ اور نکال رہے ہو۔اس نے کہا: میں بالکل ٹھیک نتیجہ نکال رہا ہوں۔کیونکہ میں نے وہاں تین سو تیرہ (313) زندہ نہیں دیکھے، تین سو تیرہ موتیں دیکھی ہیں، جو تمہارے مقابل پر نکلی ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے چہرے پر یہ عزم لکھا ہوا تھا کہ میں مر کر واپس جا سکتا ہوں۔اس کے سوامیدان جنگ سے ملنے کا کوئی اور رستہ نہیں۔پس وہ لوگ جو موت کا ارادہ کر کے مرمٹنے والوں کی شکل میں نکلے ہوں، ان کو دنیا میں کوئی ہلاک نہیں کر سکتا۔انسان کی تلوار ان کو ہلاک نہیں کر سکتی۔کیونکہ ان کے اپنے ضمیر کی آواز ان کو ختم کر چکی ہوتی ہے، ان کا اپنا اندرونی فیصلہ ان کو مار چکا ہوتا ہے۔اس لئے اس اینچی نے کہا کہ تم ان موتوں پر فتح نہیں پاسکتے۔یہی موتیں تمہیں بلاک کریں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس اندازہ لگانے والے کا اندازہ کتنا صحیح تھا اور وہ کتنا ذہین انسان تھا۔یہ وہ تقدیر ہے، جو ہمیشہ سے جاری ہے اور اس کا لازمی نتیجہ وہ ہے، جو ابھی میں نے بیان کیا ہے۔جب بھی الہی جماعتیں اپنے پہلے عہد میں ہی اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیتی ہیں اور اپنا کچھ بھی نہیں رہنے دیتیں ، ان کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔یہ وہ کنگال ہیں ، جن پر دنیا کے عظیم ترین اور متمول انسان بھی فتح نہیں پاسکتے۔یہ وہ نہتے ہیں، جن پر دنیا کی سب سے زیادہ سلح اور ہتھیار بند قو میں بھی فتح نہیں پاسکتیں۔کیونکہ ان کے مقدر میں شکست باقی نہیں رہتی۔اور اللہ تعالیٰ اس بات کی ضمانت دیتا ہے که شکست ان کے نصیب میں نہیں لکھی جائے گی۔یہ تو ایک دنیا دار لیکن ذہین انسان کا فیصلہ تھا کہ ایسی قومیں ، جو پہلے ہی سب کچھ فدا کر کے نکلی ہوں ، کبھی شکست نہیں کھایا کرتیں۔جس طرح طارق نے کشتیاں جلائی تھیں تو دنیا کے مفکرین نے یہ سمجھا کہ کشتیاں جلانے کے نتیجے میں اسے فتح نصیب ہوئی تھی۔لیکن اہل اللہ کے لئے ایک اور تقدیر بھی کام کرتی ہے اور ان کے حق میں جاری ہوتی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔وہ اس یقین کامل کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم سب کچھ اپنے خدا کو دے چکے ہیں اور ہمارا خدا بھی اپنا سب کچھ ہمیں دے چکا ہے۔ہمارے اموال اب سا تجھے ہو چکے ہیں۔جو کچھ ہمارا ہے، وہ خدا کا ہو چکا ہے۔لیکن جو کچھ خدا کا ہے، وہ بھی ہمارا ہو چکا ہے۔اور جس قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قوت اور اس کے غلبہ کی 417