تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 383
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1983ء تمام دنیا کے احمدیوں کو لازما مبلغ بننا پڑے گا خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1983ء تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۂ ختم السجدہ کی آیت کریمہ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا:۔(آیت : 34) ”دنیا میں ایسے جتنے بھی لوگ ہیں، جو کسی مطلوب کی طرف بلانے والے ہوا کرتے ہیں، خدا تعالیٰ کے نزدیک ان میں سے سب سے زیادہ پیاری، سب سے زیادہ مستحسن اور سب سے زیادہ قابل تعریف آواز اس بلانے والے کی ہے، جو اپنے رب کی طرف بلائے۔لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کچھ شرطیں بھی مقرر فرما دیں۔پہلی شرط یہ رکھی کہ وہ بلانے والا اپنے رب کی طرف بلا رہا ہو اور اس کا عمل اس کے قول کی پوری تصدیق کرتا ہو کہ وہ اپنے رب ہی کی طرف بلا رہا ہے، اپنی نفسانی خواہشات کی طرف یا شیطانی خیالات کی طرف نہیں بلا رہا اور عمل صالح اس کے قول کو حسین بنا رہا ہو۔کیونکہ قول کا حسن عمل کے قابل نفرت ہونے کے ساتھ زائل ہو جایا کرتا ہے۔بلانے والا خواہ کتنے ہی خوبصورت مقصود اور مطلوب کی طرف بلائے ، اگر اس کا عمل مکر وہ ہو تو اس کے قول کا حسن بھی جاتا رہتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے عمل صالح کی شرط ساتھ لگا دی اور اس کے ساتھ ایک اور شرط بھی لگادی۔فرمایا:۔وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ساتھ ہی پھر یہ دعویٰ بھی کرے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔کیونکہ اگر خدا کی طرف بلانے والا ہو اور بظاہر عمل صالح بھی رکھتا ہو لیکن اگر وہ اسلام کی طرف دعوت نہیں دیتا اور خود کو مسلمانوں میں سے قرار بھی نہیں دیتا تو یہ تیسری شرط باطل ہو جائے گی اور قول حسن کو بھی ساتھ ہی باطل کر دے گی۔غرض ہر وہ شخص، جسے اللہ تعالیٰ کی نظر میں ایک حسین داعی الی اللہ کا کردار ادا کرنا ہے اور ہر وہ شخص جو یہ چاہتا ہے کہ 383