تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 381

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء حضرت نوح ان کی اصلاح کے لئے آئے تو تمام قوم ایک طرف تھی اور فتوے دے رہی تھی کہ (نعوذ باللہ ) حضرت نوح مرتد ہیں ، اپنے دین سے پھر گئے اور بے دین ہو گئے ہیں۔اس وقت کون سی اقلیت تھی، جو آپ کے ساتھ چھٹی ہوئی تھی۔وہی، جو ایک کشتی سما گئے تھے۔ہم تو ایک کشتی میں نہیں آسکتے۔سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی کشتی ہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت نوح کے مقابل آنے والی اکثریت مٹادی گئی اور آپ کی پیروی کرنے والی اقلیت زندہ رہی۔یہاں تک کہ آج دنیا اسی اقلیت کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتی ہے۔آج ایک شخص بھی خواہ اس کا کسی مذہب سے تعلق ہو، اپنے آپ کو اس اکثریت کی طرف منسوب نہیں کرتا ، جس نے حضرت نوح کا انکار کیا تھا۔پس چاہئے کہ لوگ تاریخ سے سبق لیں اور اولوالالباب بنیں۔قرآن کریم بار بار عقل اور رشد کی طرف بلاتا ہے۔جو تاریخ انبیاء ہے، وہ تو قرآن نے پیش کی ہے۔اور جو تاریخ مذاہب ہے، وہ بھی قرآن نے پیش کی ہے۔اس مستند تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہ یہ کیا واقعہ ہوتارہا اور کیوں ہوتا رہا؟ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ جائز ہو یا نا جائز ہوا؟ یہ تو بحث ہی بعد میں اٹھتی ہے۔جب پہلے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کسی institution (انسٹی ٹیوشن) کو خدا نے یہ حق عطا فر مایا ہے کہ محض عددی اکثریت کی وجہ سے وہ ایک مذہبی فیصلہ صادر کر دے۔اگر الہی صحیفے یہ حق عطا کر دیں تو پھر یہ بحث چلتی ہے۔لیکن تنزل کے طور پر میں ایک قدم پیچھے جاتا ہوں اور سوال کرنے والے دوست سے ہی یہ عرض کرتا ہوں کہ ہماری ساری کوششیں تو رائیگاں گئی ہیں، ہم تو بار بار مطالبے کر چکے مختلف ممالک سے اس بارہ میں احتجاج ہو چکے کہ خدا کے لئے اس کا روائی کو شائع کرو۔وہ کارروائی اگر واقعہ جماعت کے لئے اتنی damaging تھی، اگر ہمارے جواب اتنے بودے اور بے معنی تھے تو اس کی تشہیر کر دتا کہ رہی سہی۔احمدیت بھی مٹ جائے۔وہ احمدیت جو جبر اور تشدد سے نہیں مٹ سکی تھی ، وہ لازما دلائل سے مٹ جائے گی۔کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے:۔وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةِ (الانفال:42) جو دلیل کی بنا پر زندہ ہے، وہ زندہ رہتا ہے۔اور جو دلیل کی بنا پر مر جائے، اس کو کوئی بچا نہیں سکتا ، وہ لاز م مر جایا کرتا ہے۔پس ان دلائل کو جو آپ کے وکلاء اور علماء نے پیش کئے ہیں، ان کو شائع کریں۔وہ کہاں ہیں؟ کیوں بند پڑے ہیں؟ دلائل کے انبار کو باہر نکالیں اور ساری دنیا میں اس کی تشہیر کریں۔آخر اگر آپ نے اتنا بڑا مار کہ مارا ہے تو اس کی رپورٹ کو شائع کیوں نہیں کرتے؟" مطبوع روزنامه الفضل (20 مارچ 1984ء) | 381