تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 355
تحریک جدید - ایک الہی تحریک "" پانچویں تجویز: تزئین ربوہ و تعمیر ہال ارشادات فرموده 30 دسمبر 1982 ء اس ضمن میں فی الحال میرا خیال ہے، تجویز کی ضرورت نہیں ہے۔جو کام ہو چکا ہے مختصراً میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔صد سالہ جو بلی کا منصوبہ بندی کمیشن ہے، اس میں یہ بات لمبے عرصے تک ہر پہلو سے زیر غور رہی۔تمام دنیا سے جتنے Stadiams ہیں، بستی عمارات، ان کے نقشے منگوائے گئے۔مختلف کے constructions کے اوپر جو متبادل اخراجات ہیں اور فوائد اور نقصانات ہیں، ان کے اوپر تفصیلی گفتگو ہو کے تحریر میں وہ شکلیں ظاہر کی گئیں اور یہ بھی دیکھا گیا کہ نیچے اگر دفتر بنائیں یا کمرے بنا ئیں تو اس سے کیا اخراجات پر اثر پڑتا ہے؟ تو خلاصہ یہ ہے اس کا کہ اگر نیچے کمرے وغیرہ بنائے بھی جائیں تو اس سے بظاہر تو عمارت میں افادیت پیدا ہوگی۔لیکن عملاً ایک بے ضرورت چیز زائد ہورہی ہے، جس کا خرچ بہت ہی زیادہ ہو جاتا ہے۔یعنی اگر اس قسم کی عمارت بنائی جائے کہ نیچے کمرے ہی ہوں تو پھر اس کی تمام بیرونی شکل میں تبدیلی آجاتی ہے۔پھر صرف کھلی کھلی گیلیاں نہیں لگا سکتے بلکہ ہر چیز اسی عمارت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے مطابق بنائی جائے گی۔تو کئی گنا زیادہ خرچ بڑھ جاتا ہے جبکہ عموماً وہ دفاتر بے کار رہیں گے، وہ جگہیں بے کار ہیں گی۔اس نقطہ نگاہ سے بھی دیکھا گیا کہ وہاں جلسہ کے مہمان ٹھہریں، اس کے پہلوؤں پر بھی غور ہوا۔پتہ لگا کہ یہ Feasable نہیں ہے رپورٹ۔اور مزید بھی تلاش ہو رہی ہے، ایسے نقشوں کی، جو ہمارے لئے مفید ثابت ہوں۔بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اتنے بڑے سٹیڈیم کے لئے جگہ کہاں ہوگی ؟ جو جگہ مہیا ہو سکی ہے، اس پر ابھی تک اس لئے اطمینان نہیں ہے کہ وہاں flood کا پانی آ جاتا ہے اور flood کے پانی کی روک تھام کے لئے جو سکیم بنی تھی، اس پر توقع رکھ کر وہ غالباً جگہ لی گئی تھی۔وہ ابھی تک کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے۔تو یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور وہ جلد ہم اس پر اپنی توفیق کے مطابق جتنی عمارت ہو، بنا سکیں۔جہاں تک وسائل کا تعلق ہے، ٹھیک ہے اس وقت اگر ہم اس پر دس کروڑ بھی لگا ئیں ، تب بھی وہ کم ہو جائے گا، اتنے بڑے وسیع سٹیڈیم کے لئے۔آج کل دس کروڑ کوئی چیز نہیں ہے۔اور ہمارا صد سالہ جوبلی منصوبے کا کل خرچ یعنی آمد و خرچ کا بجٹ دس کروڑ کچھ ہے۔لیکن جیسا کہ چوہدری صاحب نے فرمایا انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ سامان مہیا کر دے گا اور ہماری ضرورت وہاں کی پوری ہو جائے گی۔مجھے امید ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل پر۔اس کا ایک پہلو یہ ہے، جس کی طرف اشارہ ہوا تھا۔لیکن سڑکوں کے ضمن میں بات ہوئی اور ہال کی بات بعد میں بھی ہوئی لیکن یہ بات کھل کر سامنے نہیں آئی کہ کھل کر اتنا بڑا اہال بنانا، جس میں تین لاکھ آدمی 355