تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 354

ارشادات فرمودہ 30 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم صدر بھی سمجھے کہ ہو جانی چاہیے، اس صورت میں تو ہم استثناء خود کر لیا کریں گے۔لیکن قانون کے اندر الفاظ کیا کیا میں مرکزی صدر بورڈ قضاء کا نام رکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔"But again that has already been explained, that is open for every body every Ahmadi۔But in the legal structure of Qaza it will not be mentioned۔This right of appeal to Khalifa-tul-Masih is open to every Ahmadi۔He can write to him, and if the Khalifatul Massih chooses, he can direct the institution concerned to explain and to submit a report so that will be done۔You should make it known to every body that this is a systems of Jamaat Ahmadiyya۔It is the responsibility of missionaries to make the system known to everybody, so they feel completely satisfied relived and they should be put at ease"۔"No this is wrong۔This I do not want to happen that every decision will be directly taken by Khalifatul Masih and only then it will satisfy۔This is absolutely wrong۔That means there is some thing wrong with your up bringing of that community۔They should be asked to behave under the norms of Islamic laws۔That's all"۔وو میں آپ کو وضاحت سے سمجھا دیتا ہوں۔جب یہ فیصلہ ہوگا کہ ہر جگہ کی اپیل قضاء بورڈ میں آئے گی تو قضاء بورڈ کے جوتو انہین ہیں، وہ اپنی جگہ نافذ العمل رہیں گے۔پھر بھی قضاء بورڈ کے خلاف جو اپیل کا سٹم یہاں رائج ہے، وہ پھر بھی take over کرے گا۔اس لئے وہاں لکھوانے کی کیا ضرورت ہے، یہ؟ پوائنٹ یہ ہے کہ قضاء بورڈ کو پہلے ہی اس بارے میں واضح ہدایت دی جاچکی ہے اور وہ جماعتوں میں مشتہر کر دی جائے گی کہ قضاء بور ڈ کیا چیز ہے؟ اس کے اختیارات کیا ہیں؟ اور اس کے خلاف اپیل کا کیا طریق کار ہوگا؟ اس میں خلیفۃ المسیح کا ذکر آتا ہے تو جب ہم نے سب کو قضاء بورڈ کی طرف Refer کر دیا تو آگے پھر اس تفصیل میں جانے کی کیا ضرورت ہے کہ اس کے بعد کیا ہونا ہے؟ قضاء بورڈ کے قوانین میں یہ بات داخل ہے کہ ان کے خلاف اپیل کی کیا شکل ہوگی؟“ 354