تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 331

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1982ء سوئٹزر لینڈ میں جو پبلک لیکچر تھا، اس میں شامل ہونے والوں نے حیرت انگیز طور پر دلچسپی لی۔جو وقت لیکچر کے لئے مقرر تھا، اس سے زیادہ وقت ہو گیا تھا لیکن وہ جانے کا نام نہیں لیتے تھے۔حالانکہ ان لوگوں کو عادت ہی نہیں ہے کہ اتنی دیر بیٹھے رہیں۔ان کے وقت مقرر ہوتے ہیں۔کسی لیکچر میں ایک گھنٹہ بیٹھ جانا، بہت بڑی بات سمجھی جاتی ہے۔لیکن ہمارے پروگرام میں وہ نہ صرف بیٹھے رہے بلکہ لیکچر کے بعد سوال و جواب کا ایسا سلسلہ شروع کر دیا کہ وہ چھوڑتے ہی نہیں تھے۔اور پھر سوالات بھی زیادہ تر عیسائیت کے متعلق۔جواز خود انہوں نے شروع کیے۔لطف کی بات یہ ہے کہ مسلسل ساڑھے تین گھنٹے تک وہاں بیٹھے رہے۔گویا چالیس منٹ یا ایک گھنٹے کی جو دعوت تھی، وہ ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہی۔اور جو بہت مجبور ہوئے ، وہ بڑی معذرت کے ساتھ وہاں سے گئے اور بعض نے واپس جا کر خط لکھے کہ ہمیں بڑا افسوس ہے کہ ہم اس مجلس میں زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے۔لیکن یہ صرف گنتی کے لوگ تھے۔ان میں سے ایک نو جوان اب سوئٹزر لینڈ کی فوج میں ہے۔انہوں نے عیسائیت کے متعلق سوال شروع کئے تھے اور سوالات سے متشد د عیسائی لگ رہے تھے۔ان کا خط آیا کہ میرے دل پر اس مجلس کا بہت گہرا اثر ہے۔اس کے بعد میں دو (2) دفعہ آپ کے مشن سے رابطہ قائم کر چکا ہوں اور احمدیت کا مطالعہ کر رہا ہوں۔میرے چند سوال ابھی باقی ہیں، دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرمائے کہ میں احمدی ہو جاؤں۔الغرض ایک دو نہیں بلکہ ایسی بیسیوں مثالیں ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنے فضل کے ساتھ ایک مجلس میں دلوں کو بدلا ہے۔انگلستان سے ایک احمدی نوجوان کا خط آیا کہ ھم میں جو استقبالیہ دیا گیا تھا، اس میں میرے ایک انگریز استاد بھی شامل تھے، جنہیں مذہب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔چند دن ہوئے ، وہ مجھے ملے اور کہنے لگے کہ یہ عجیب بات ہے کہ استقبالیے میں After Dinner یعنی رات کے کھانے کے بعد ایک چھوٹی سی تقریر تھی لیکن اسلام کے بارے میں جو کچھ کہا گیا، وہ اتنا سا تھا کہ میرے دل میں گھر کر گیا ہے۔اور میں جود ہر یہ اور لامذہب تھا، اب ایک مذہبی انسان بن گیا ہوں۔اس لئے مجھے لٹریچر دو تا کہ میں اسلام کا مزید مطالعہ کروں۔پس یہ ساری اسلام کی برکتیں ہیں۔اسلام ایک ایسی عظیم الشان صداقت ہے کہ جو غالب آنے کے لئے قائم کی گئی ہے اور لازما غالب آکر رہے گی۔ہم نے تو صرف لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونا ہے۔اس وقت دنیا کی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں اور تقاضے بھی پھیل رہے ہیں، اس لئے آپ تیاری کریں، آپ میں سے ہر ایک کو مبلغ بننا پڑے گا۔اب دس یا ہیں یا تئیں یا چارسو یا پانچ سویا ہزار مبلغ کا بھی کام نہیں رہا، اب تو یہ تقاضے بہت پھیل چکے ہیں۔331