تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 319

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1982 ء طرح اپنی تمناؤں کا اظہار کروں؟ یہ بکری مجھ سے لے لیجئے ، مجھے اس بکری سے اب نفرت ہو گئی ہے۔میں برداشت نہیں کر سکتی کہ یہ میرے گھر میں رہے، جبکہ آپ تحریک فرما رہے ہیں اور لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ایک عجیب کیفیت تھی ہر احمدی قربان ہوتا چلا جا رہا تھا۔جو کچھ اس کے بس میں تھا، وہ فدا کرنے پر تلا بیٹھا تھا۔انہوں نے بڑا لمبا عرصہ کھانوں میں تنگی اختیار کی، پہنے میں تنگی اختیار کی اور رہن سہن میں تنگی برداشت کی اور اپنی خواہشات کو قربان کیا۔اور تحریک جدید پروان چڑھی۔تحریک جدید کے اس چندے سے ایک مشن بھی نہ ہندوستان میں قائم کیا گیا اور نہ ہی پاکستان میں۔ایک بھی مسجد نہ ہندوستان میں بنائی گئی اور نہ ہی پاکستان میں بنائی گئی۔میں نے ان سے کہا کہ اس کے باوجود 1934ء سے لے کر آج تک ایک آواز بھی میرے کان میں نہیں پڑی کہ ہمارا روپیہ کہا جاتا ہے؟ تمہیں آج جو قربانی کی توفیق مل رہی ہے، یہ ان غریب احمدیوں کی قربانیوں کے نتیجے میں مل رہی ہے اور تم اتنی جلدی حوصلہ ہار بیٹھے ہو۔اور کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہمارا چندہ کہاں جاتا ہے؟ جب میں نے بات ختم کی تو میں نے دیکھا کہ اکثر کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور وہ سخت پریشان تھیں اور شرمندہ تھیں کہ ہم نے یہ کیا کہہ دیا ہے۔پس آج بیرون پاکستان کی جماعتوں کا تحریک جدید کا جو چندہ کروڑوں کی شکل میں نظر آ رہا ہے اور تحریک جدید کی سکیموں کے نتیجہ میں جو برکت مل رہی ہے، یہ سب ابتدائی غریب احمدیوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔اس لئے اگر پاکستان کی جماعت تحریک جدید کے چندے میں بیرونی جماعت سے پیچھے رہ گئی تو پاکستانی جماعت پر کوئی حرف نہیں آتا۔یہ خدا کا کام ہے، اس نے تو بہر حال پھیلنا ہے۔اب بیرون پاکستان کی جماعتوں کو ساری دنیا میں خدمت کی جو تو فیق مل رہی ہے، پاکستان کی جماعتوں کو وہ تو فیق مل ہی نہیں سکتی۔کیونکہ پاکستان کی جماعتوں کا مقابلہ پہلے صرف دو، تین ملکوں سے ہوا کرتا تھا اور اب بیسیوں ممالک سے ہے۔اگر احمدیوں کو شمار کیا جائے تو وہ ممالک جہاں احمدی پائے جاتے ہیں، ان کی تعداد 116 بنتی ہے۔( نعرے) ان سب کی قربانیوں کا مقابلہ ہم پاکستانی احمدی کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر چہ 28 ممالک میں اس وقت 391 مبلغین کام کر رہے ہیں لیکن مشغوں کی تعداد زیادہ ہے۔باقی ممالک میں جماعتیں قائم ہوئی اور احمدیت پھیلی، وہاں انفرادی طور پر احمد ی گئے اور ان کی تبلیغ سے لوگ احمدی ہو گئے۔یا پاکستانی احمدی وہاں جا کر آباد ہوئے اور ان کی تبلیغ سے مقامی لوگ احمدیت میں داخل ہو گئے۔مثلاً جزیرہ مڈغاسکر ہے، وہاں احمدیت پھیلنے کی داستان یہ ہے کہ مرچنٹ نیوی کے ایک احمدی کو وہاں جانے کا اتفاق ہوا، انہوں نے لٹریچر تقسیم کیا۔اور حسن اتفاق سے یا تقدیر الہی کہنا چاہیے، اس کا اتنا اثر ہوا کہ ایک، دو سال کے اندراندروہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے با قاعدہ جماعت قائم ہوگئی۔319