تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 305

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء اقتصادیات کی زبان سمجھ آئے گی۔یہ سارے کام ایسے ہیں، جو ابھی ہونے والے ہیں۔ان کے لئے اخراجات کی ضرورت ہے۔پھر جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، ہمیں ایسی قوموں کے لئے ، جن کو قرآن کریم کے ساتھ کوئی بھی دلچسپی نہیں ہے، قرآن کریم کی ایسی آیات کا انتخاب کرنا پڑے گا، جو ان پر اثر کریں۔خواہ کوئی دہریہ ہو یا غیر دہریہ، قرآن کریم کی تلاوت اس کے دل پر گہرا اثر کرتی ہے۔قرآن کریم میں یہ طاقت ہے کہ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ (الزمر : 24) انسان کے اندر ایک قسم کا تزلزل پیدا کر دیتی ہے اور وہ خدا کی عظمت کے احساس سے کانپنے لگ جاتا ہے۔اس قدر برادر است قوت ہے، اس کلام میں۔تو ایسی آیات کا انتخاب کر کے نہایت ہی پاکیزہ آواز والے قاریوں سے ان کی تلاوت کروائی جائے۔فنی لحاظ سے جو قاری ہیں، وہ میرے ذہن میں نہیں ہیں۔بلکہ ایسے قاری ہوں، جو معانی سمجھتے ہوں۔اور ان معانی میں ڈوب کر اور پورا دل اور جان ڈال کر تلاوت کریں۔پھر مختلف زبانوں میں ان آیات کے ترجمے ہوں۔میرے ذہن میں تو یہ نقشہ ہے کہ ہمیں کم از کم سو زبانوں میں قرآن کریم کی تلاوت کی نہیں تیار کرنی چاہئیں۔یعنی چھوٹی چھوٹی علاقائی زبانوں میں بھی تیار ہوں۔لیکن دنیا کی بڑی بڑی زبانوں کی طرف تو ہمیں فوری توجہ دینی چاہئے۔دس پندرہ ایسی زبانیں ہیں۔جن کی اکثریت کے علاقوں کو ہم کور (Cover) کر سکتے ہیں۔یعنی وہاں تک ہم پہنچ سکتے ہیں۔علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام یعنی حدیث ہے۔مختلف موضوعات پر احادیث کی ٹیپیں تیار کی جائیں۔کچھ اقتصادی پہلو سے تعلق رکھتی ہوں، کچھ نظریات سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق آپ کا بیان ہے، حشر و نشر کے متعلق آپ کا بیان ہے، اسی طرح آپ کی اور بہت سی پیاری باتیں ہیں۔انسان تقریروں میں لاکھ مہارت حاصل کر جائے ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ایک ایک کلمہ بعض دفعہ اتنا گہرا اثر کرتا ہے کہ کوئی چیز اس اثر کو روک نہیں سکتی۔وہ ہر مدافعانہ طاقت کو تو ڑ کر دل میں اتر جاتا ہے۔اس میں سچائی ہے، وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔اس میں ایسانور ہے، جو انسان بناہی نہیں سکتا۔جو بناتا ہے ، وہ اس نور سے لے کر بناتا ہے۔اس کی طاقت سے طاقت حاصل کر کے آگے اس کے کلام میں عظمت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے جب تک ہم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتے (اور اس میں سے بھی صرف انتخاب پیش کر سکیں گے ) اور پھر اس کے تراجم پیش نہیں کرتے ، دنیا کو کیا پتہ کہ کون ہم سے مخاطب ہے؟ 305