تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 304
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک سامنے پیش کئے جائیں۔ان کی دلچسپیوں کو اسلام کی طرف کھینچنے کے لیے بعض اور ضروری ذرائع ہیں۔اگر و آپ وہ اختیار نہیں کریں گے تو لاکھ کوشش کریں، یہ لوگ آپ کی طرف مائل نہیں ہوں گے۔مثلاً اسلام کا اقتصادی نظام ہے۔ان کو بتایا جائے کہ کیوں یہ نظام اشترا کی نظام سے بہتر ہے؟ کیوں یہ Capitalistic سسٹم یعنی سرمایہ دارانہ نظام سے بدرجہا بہتر ہے؟ یہ لوگ مذہبی اقدار کو بھلا بھی دیں، اگر خالصۂ دہریہ کے نقطۂ نگاہ سے حسابی نظر کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام کا پیش کردہ اقتصادی نظام باقی سب نظاموں سے بہتر ہے۔جماعت کی طرف سے اس کو بار ہا ثابت کیا جا چکا ہے، لیکن وہ کافی نہیں۔نٹے بین الاقوامی تقاضوں کے لحاظ سے، اور نئے حالات کے لحاظ سے اس چیز کو ایک نئے رنگ میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔اقتصادیات تو کوئی غیر متبدل چیز نہیں ہے کہ اگر اس کے اوپر آج سے پچاس سال پہلے ایک کتاب لکھی گئی تو وہ ہمیشہ کے لیے جاری رہے گی۔صرف قرآن ہے، جو ہمیشہ کے لیے جاری رہتا ہے۔باقی ساری انسانی کتابیں خواہ وہ کتنے بڑے بزرگوں اور علماء کی لکھی ہوئی ہوں ، وقت سے پیچھے رہ جاتی ہیں۔اس لیے بڑی جرأت اور بڑی قوت کے ساتھ ہمیں ان کو بتانا پڑے گا کہ موجودہ وقت کے نقطہ نگاہ سے اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسلام کیا نظام پیش کرتا ہے؟ اور دلائل سے منوانا پڑے گا کہ یہ نظام بہتر ہے اور تمہارا نظام اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔پھر اس نظام کے ساتھ جو مزید فوائد وابستہ ہیں اور جن کا تصور بھی ان کے نظاموں میں نہیں پایا جاتا ، وہ بھی ان کے سامنے پیش کرنے پڑیں گے۔ان باتوں کے وہ قائل ہوں گے تو اسلام میں دلچسپی لیں گے۔ورنہ دنیا کی بھاری اکثریت دہر یہ ہوچکی ہے۔ان کو اس بات میں ایک کوڑی کی بھی دلچسپی نہیں کہ مذہب کیا چیز ہے؟ میں نے ایسے لوگوں سے بار با گفتگو کی ہے۔ابھی یورپ میں بھی کئی جگہ گفتگو کا موقع ملا۔جو عیسائی کہلانے والے ہیں، ان میں سے بھی اکثر عملاً دہر یہ ہو چکے ہیں۔ان کے اندر کوئی ایسی دلچسپی نہیں ہوتی تھی کہ ہم ایک دم عیسائیت اور اسلام کی باتیں شروع کر سکتے۔اس لیے ایسی مجالس منعقد ہوتی تھیں، جن میں ان کے ہر قسم کے سوالات کے جواب قرآن کریم کی روسے دیئے جاتے تھے۔نتیجہ جب وہ دیکھتے تھے کہ ان کے دنیاوی سوالات کا حل قرآن کریم میں ہے تو پھر ان کے اندر دلچسپی پیدا ہوتی تھی۔پس باتیں تو ساری ہی قرآن کریم کے حوالے سے ہوں گی۔خواہ اقتصادیات کی باتیں ہوں، خواہ فلسفے کی باتیں ہوں، خواہ سائنس کی باتیں ہوں۔لیکن سائنسدان کو سائنس کی زبان سمجھ آئے گی ، فلسفہ دان کو فلسفہ کی زبان سمجھ آئے گی اور اقتصادیات کے ماہر یا اقتصادیات میں دلچسپی لینے والی دنیا کو 304