تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 281
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد ششم تحریک جدید کی ذمہ داریاں خطاب فرمودہ 02 دسمبر 1982ء خطاب فرمودہ 02 دسمبر 1982ء حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی سفر یورپ سے کامیاب مراجعت کی خوشی میں تحریک جدید انجمن احمدیہ کی طرف سے حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا، اس موقع پر مکرم محترم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ نے ایک سپاسنامہ پیش کیا۔اس کے جواب میں حضور نے درج ذیل خطاب فرمایا:۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ عطا کر کے مسلمانوں پر ایک ایسا عظیم الشان احسان فرمایا ہے کہ اگر انسانی نسلیں قیامت تک سورہ فاتحہ ہی کے الفاظ میں الحمد للہ پڑھتی رہیں، تب بھی اس احسان کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ہر شکر کے موقع پر، ہر غم کے موقع پر، ہر کامیابی پر اور ہر نقصان پر اس سے بہتر مضمون پڑھنے کے لئے انسانی دماغ تصور نہیں کر سکتا۔ایسا اظہار ہے جذبہ تشکر کا اور ایسی کامل دعا ہے، ہر مختلف صورت حال کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے فوائد یا نقصانات کے موقع کے لئے اور مستقبل کے خدشات سے بچنے کے لئے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔انسان کے دل میں کتنا بڑا طوفان ہی کیوں نہ موجزن ہو، یہ دعا ان چند کلمات کے ذریعے انسان کو اپنا مافی الضمیر ادا کرنے کا موقع عطا کر دیتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور جو کچھ بھی انسان عرض کرنا چاہتا ہے، وہ ایسی زبان میں عرض کر دیتا ہے کہ کہنے والا تو سمجھ رہا ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو کہ ان الفاظ میں اس مرتبہ کیا کہا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سورہ فاتحہ جب بھی پڑھی جائے ، انسانی قلب کی کیفیت کو ایسے خاص انداز میں ادا کرتی ہے کہ جس پر وہ کیفیت گذرے، صرف وہی جان سکتا ہے کہ ان الفاظ میں اپنے رب کے حضور کیا پیش کیا گیا ہے۔تو اظہار بھی ہے اور اخفاء بھی ہے۔یہ ایسی عظیم الشان سورۃ ہے کہ اس پر جتنا بھی غور کریں، جتنا بھی اس میں غوطے لگائیں، اتنا ہی انسان اس کی عظمت کا پہلے سے بڑھ کر قائل ہوتا چلا جاتا ہے۔اس لئے ہر اہم موقع پر خلفاء کی یہ سنت اور طریق رہا ہے کہ وہ سورہ فاتحہ سے آغاز کیا کرتے اور جہاں تک میر اعلم ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے یہ سنت جاری 281