تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 246
خطاب فرمودہ 21 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اس ذکر میں مجھے حضرت مصلح موعود کا وہ خطبہ یاد آ جاتا ہے، جو آپ نے بڑے درد کے ساتھ قادیان میں ایک موقع پر دیا تھا۔آپ نے اس بادشاہ کا ذکر کیا، جس نے آخری مرتبہ (جب الحمر المکمل ہوا تو تکمیل کے معا بعد ) الحمرا کی چابیاں اپنے ہاتھ سے ایک عیسائی بادشاہ کو پکڑائیں اور اپنے چند ساتھیوں کو لے کر سر زمین پین سے ہمیشہ کے لیے جدا ہونے کے لیے روانہ ہوا۔وہاں ایک پہاڑی ہے، جہاں سے اگر مڑ کر دیکھا جائے تو الحمرا کا سارا علاقہ بلکہ اندلس کا بہت بڑا علاقہ دکھائی دیتا ہے۔جب اس کا گھوڑا اس پہاڑی پر پہنچا، اس نے مڑ کر نظر ڈالی تو اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسووں جاری ہو گئے۔تب اس کی ماں نے اس سے کہا کہ اے میرے بیٹے! یہ آنسوؤں کا وقت نہیں تھا۔یہ خون بہانے کا وقت تھا۔تمہیں شرم آنی چاہیے کہ اب رخصت ہوتے ہوئے عورتوں کی طرح ٹسوے بہار ہے ہو۔جس چیز کی تم مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے، اب عورتوں کی طرح اس پر روتے ہو۔وہ ایک عورت تھی، جس نے اسلامی عورت کی یاد کو اس ایک اظہار درد سے پین کی سرزمین میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا، اس پہاڑی کو سپنیش زبان میں ” elul time sespare del moro " کہتے ہیں۔یعنی مسلمان بادشاہ کی آخری آہ اور وہ آج تک اسی نام سے یاد کی جاتی ہے۔وہ آہ سنی نہیں گئی۔ایک مدت تک خاموش آہ میں تبدیل رہی۔قادیان میں ایک کان نے اس آہ کو سنا اور وہ مصلح موعود کا کان تھا۔ایک دل نے اس آہ کو بڑی شدت سے محسوس کیا اور وہ مصلح موعود کا دل تھا۔چنانچہ آپ کے خطبہ میں اس قدر بے قراری تھی ، اس قدر درد تھا، اس قدر سسک تھی ، اس قدر تکلیف تھی کہ سننے والوں کی آنکھوں سے آنسورواں ہو گئے۔حضور نے کہا، ہم ضرور واپس جائیں گے اور اندلس کی سرزمین کو پھر فتح کریں گے۔لیکن یہ فتح دلیل اور محبت کی فتح ہوگی۔پھر ہم کبھی اس سرزمین سے نہیں جائیں گے، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں سے بزور شمشیر چھین لی وو کا گئی۔اب وہ زمین ہم محبت سے فتح کریں گے اور یہ فتح انشاءاللہ دائی ہوگی۔پس جب میں مسجد بشارت سپین کے افتتاح کے لیے گیا تو میرے کانوں میں بھی وہی الفاظ گونج رہے تھے۔اور جب پریس کے ایک نمائندہ نے مجھ سے سوال کیا کہ ایک فقرہ میں آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ تو مصلح موعود کا وہی فقرہ تھا، جو میں نے اس کے سامنے دہرایا۔میں نے کہا، وہ سرزمین، جو ہمیں بہت پیاری ہے لیکن تم نے تلوار کے زور سے ایک دفعہ چھین لی ، اب ہم محبت کی طاقت سے اسے دوبارہ جیتنے کے لیے آگئے ہیں۔یہ فقرہ اس کو اتنا پیارا لگا کہ اس نے اپنے اخبار میں اس فقرہ کو شہ سرخی کے ساتھ بڑا نمایاں کر کے شائع کیا۔اور اس کی گونج یورپ کے کئی دوسرے ملکوں میں بھی جا 246