تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 234
خطاب فرمودہ 07 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کہ وہ صحیح دفاع کر سکے۔جب تک اگلے کو یہ خوف نہ ہو کہ مجھ پر بھی پڑے گی ، اس وقت تک اس کو مارنے کا سلیقہ بھی نہیں ہوتا۔اور دفاع کے لئے تو ایک آدمی کے ہاتھ باندھے جاتے ہیں۔تو تھوڑ اسا گت کا اس طرح بھی کروا دیں کہ اس کو کہیں کہ تم پر بھی پڑے گی۔پھر میں دیکھوں گا کہ وہ مارنے کے لئے بچتا بھی ہے کہ نہیں۔خیر حضور ہنس پڑے، آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں تمہاری بات ٹھیک سے پس مسلمانوں کے ساتھ پہلے یکطرفہ مقابلہ ہوتا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور آپ نے اسلوب بدلا۔مسلمان بے چارے مجبور تھے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی مانتے تھے اور وہ یکطرفہ حملے پر حملہ کرتے چلے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور امہات المومنین پر نہایت خوفناک گندا چھالتے تھے۔اور مقابل پر مسلمان کیا کرتا تھا ؟ اٹھتا تھا اور چاقو مار دیتا تھا۔اس طرح دنیا میں اور زیادہ ذلیل ہوتا تھا۔لوگ کہتے تھے۔ان کے پاس کوئی دفاع نہیں ہے۔سوائے چاقو کے اور کچھ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور مقابلے کے سارے رنگ بدل دیئے۔آپ نے فرمایا: میں بھی حملہ کروں گا اور زیادہ شان کے ساتھ حملہ کروں گا اور خدا کے شیروں کی طرح تم پر چھپلوں گا۔۔تم میرے آقا مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کی جرات کرتے ہو، کس طرح بچ کر جاؤ گے مجھ سے؟ پھر ایک اور عجیب منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔اسلام کا ایک یہ عظیم الشان پہلوان، جری الشان پہلوان، جری اللہ فی حلل الانبیاء تو اس شان کے ساتھ اسلام کے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اور امہات المؤمنین کے انتقام لے رہا تھا اور پیچھے ایک شور پڑ گیا ان مسلمانوں کی طرف سے، جن کے دفاع میں یہ پہلوان لڑ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ تم عیسی پر حملے کرتے ہو، تم فلاں نبی کی بے عزتی کرتے ہو، تمہارا کوئی تعلق نہیں اسلام کے ساتھ۔یعنی اسلام کے لئے لڑنے والا اور اس شان کے ساتھ جنگ کو نئے اسلوب عطا کرنے والا، اس کی پشت محفوظ نہیں تھی۔پیچھے سے اس پر حملے ہورہے تھے، وہ مڑتا تھا اور چوکھی لڑائی لڑتا تھا۔ان کو بھی جواب دیتا تھا، سامنے والوں کو بھی جواب دیتا تھا۔دائیں بھی لڑتا تھا اور بائیں بھی لڑتا تھا۔ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کے مجاہد کے طور پر زندہ رہے اور اسی حالت میں آپ نے جان دی۔پس اس آقا کا نام لیتے ہیں تو اس کے رنگ بھی تو سیکھیں۔بڑھاپا کوئی ایسی چیز نہیں ، جو مجاہدے کی راہ میں حائل ہو سکے۔نبی آخری دم تک لڑتا ہے اور آخری دم تک پیغام دیتا ہے، اپنے ماننے والوں کو کہ اس اسلوب پر چلو گے تو میرے ساتھ دفاع کے وعدے پورے ہوں گے۔ورنہ پورے نہیں ہوں گے۔اس لئے تمام انصار کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ وہ مجاہدین اسلام ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے لئے جہاد کے جو طریق بیان فرما دیئے ہیں اور ہمارے سامنے کھول دیتے ہیں، ان کو چھوڑ کر ہم 234