تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 233
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 07 نومبر 1982ء چنانچہ اسی طرز جہاد نے ہمیں روشنی عطا فرمائی۔اب دیکھیں! آپ کے فن جہاد کا کتنا حیرت انگیز کمال ہے۔عیسائیوں کے جواب میں آپ حضرت عیسی پر تو حملہ کر نہیں سکتے۔حضرت مسیح کو تو ایک پاک رسول سمجھتے تھے۔اس لئے ایسا عمدہ اور پیارا طریق اختیار کیا کہ آپ بار بار سیح کو بچاتے رہے اور مسیح کی پاکیزگی بھی بیان فرماتے رہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مسیح، جس پر ہم ایمان لاتے ہیں، وہ تو قرآن والا سیج ہے، جو نہایت پاکیزہ رسول، نہایت نیک، ہر لحاظ سے اچھا اور خدا کا برگزیدہ اور پیارا تھا۔لیکن وہ مسیح ، جو تم پیش کر رہے ہو، وہ یسوع جو تم پیش کر رہے ہو، جس کو بائبل خدا کا بیٹا کہتی ہے، جس کا ہمارے نزدیک کوئی وجود نہیں۔مگر تمہارے نزدیک وہ حقیقت ہے۔تمہاری اپنی بائبل کی زبان میں وہ ایسا تھا اور وہ ایسا تھا۔کیسی شان کے ساتھ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی غیرت اور محبت کا اظہار بھی فرما دیا۔اور ساتھ ہی قرآن کا بھی دفاع کیا اور مسیح کا بھی دفاع کیا۔یہ ہے جہاد کا وہ اسلوب، جو فرما دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سکھایا ہے۔اور ہر میدان میں ہمیں اسی اسلوب کے ساتھ نکلنا پڑے گا۔یہ وہ بنیادی ہتھیار ہیں، جن کے ساتھ لیس ہو کر جب مسلمان نکلتا ہے تو اس کے لئے شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پھر آپ نے جس طرح دلجوئیاں فرمائیں، وہ بھی ہمارا فرض ہے۔حملے کا جواب حملے سے دینا اور محض دفاع تک محدود نہ رہنا فن حرب میں انتہائی ضروری ہے۔مجھے یاد ہے، ہمیں بچپن میں ایک دفعہ قادیان میں گر کا دیکھنے کا موقع ملا۔( گت کا تو خیر ہم کھیلا بھی کرتے تھے۔گنے کا مقابلہ دیکھنے کا حضرت خلیفة المسیح الثانی کو بہت شوق تھا۔آپ نے صحت کو برقرار رکھنے کی طرف بہت توجہ دلائی۔مختلف ذرائع بتاتے رہتے تھے کہ گھوڑ سواری سیکھو، گڑ کا سیکھو اور مردانہ کھیلوں میں حصہ لو۔آپ نے قادیان میں گننے کو بہت رواج دیا۔ایک دفعہ حضور کو خیال آیا کہ یہ جو گنگے باز ہیں، یہ صرف قانونی ایچ پیچ ہیں یا واقعی ان کو دوسروں پر فضیلت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔چنانچہ آپ نے ایک مضبوط زمیندار جاٹ کو بلایا اور گستکے کے استاد کو بھی۔اس کو آپ نے کہا کہ تم تو گنی کا جانتے ہو، بڑے ماہر ہو، تم نے صرف دفاع کرنا ہے اور اس پر جوابی حملہ نہیں کرنا۔اس نے صرف حملہ کرنا ہے۔آپ دونوں کا مقابلہ کروا کے دیکھتے ہیں کہ کون جیتا ہے؟ اس جاٹ نے اندھوں کی طرح لاٹھیاں چلانی شروع کیں۔اس نے دورو کیں، چار روکیں، پانچ روکیں، پھر کوئی لاٹھی اس کی ٹانگ پر پڑی کوئی پیٹ پر، کوئی سر پر آئی۔لوگ ہنس پڑے کہ دیکھو جی! گنتکے کا استاد بنا پھرتا ہے اور ایک جاٹ سے ہار گیا۔اس نے کہا: حضور ! بات یہ ہے کہ گلے میں تو حملہ بھی ہوتا ہے اور دفاع بھی ہوتا ہے۔اگر کسی کو صرف دفاع پر مجبور کیا جائے تو یہ ناممکن ہے۔233