تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 232
خطاب فرمودہ 07 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک میں ان سے کہتا تھا کہ آپ دیکھیں اسلامی اخلاق اور آپ کے اخلاق میں کتنا بڑا فرق ہے؟ آپ کے پاس ایک مینی آیا اور آپ نے شور مچاتے مچاتے گلے پھاڑ لئے اور اس ایک مینی کا انتقام آپ اسلام سے لے رہے ہیں۔ہمارے پاس آپ کے ہزار ہا مینی میں لیکن ہم نے عیسائیت کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔کیوں نہیں نکالا؟ اس لئے کہ اسلام ہمیں انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جب وہ مظالم عیسائیت کے نام پر ہورہے تھے تو عیسائیت کا ایک ذرہ بھی قصور نہیں تھا۔ان جاہلوں کا قصور تھا، ان تاریکی کے بچوں کا قصور تھا، جنہوں نے خدا کے ایک پاک مذہب، محبت کے مذہب کو اس قدر ذلیل اور رسوا کیا کہ اس محبت کے نام پر مظالم کی ایک ایسی تعلیم دی اور مظالم کی تعلیم پر ایسا عمل کر کے دکھایا کہ ساری دنیا کی بہیمانہ تاریخ بھی اس سے شرما جاتی ہے۔لیکن ہم آپ کے مذہب کا دفاع کرتے ہیں۔ہم کہتے ہیں، خبر دار ! عیسائیت کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولنا، یہ سچا مذ ہب تھا، اللہ کا مذہب تھا۔عیسائیت کا ایک ذرہ بھی قصور نہیں۔ان ظالم لوگوں کا قصور ہے، جن کوحق نہیں تھا، عیسائیت کی طرف منسوب ہونے کا۔لیکن وہ منسوب ہوئے۔میں نے کہا: اسلامی اخلاق اور آپ کے اخلاق میں یہ فرق ہے۔ہم آپ کی زیادتی کے باوجود آپ کے دل مجروح نہیں کرنا چاہتے۔جب ان کو یہ بات بتائی جاتی تھی تو ان کے چہروں کی کیفیت بالکل مختلف ہو جاتی تھی۔شکست کا جو احساس تھا، وہ طمانیت میں بدل جاتا تھا۔وہ سمجھ جاتے تھے کہ ہاں عیسائیت پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔لیکن ساتھ ہی اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم کی برتری بھی از خود ان کے دلوں پر ظاہر ہو جاتی تھی۔میں یہ واقعہ آپ کے سامنے اس لئے کھول کر رکھ رہا ہوں کہ طریق تبلیغ میں یہ ساری چیزیں ضروری ہیں۔بعض دفعہ غیرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ جوابی حملہ کیا جائے۔اگر آپ محض کمزور دفاع پر یا یک طرفہ دفاع پر رہیں تو آپ اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہی طریق ہے، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سکھایا۔جب عیسائیوں نے اسلام پر اور سرور دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک پر حملے کئے تو آپ نے ان لوگوں کو اچھی طرح لتاڑا۔غیرت کا تقاضا تھا کہ سخت جواب دیا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ نا پاک حملوں کے نتیجہ میں کس طرح دل دکھتے ہیں۔اور یہ بتایا جائے کہ تمہاری مثال تو ایسی ہے کہ چھاج بولے سو بولے، چھلنی کیا بوئے“ تم تو اسلام کی چھاج کے مقابل پر چھلنی کی طرح ہو۔تم پر تمہاری اپنی زبان میں اتنے خوفناک الزام عائد کئے جا سکتے ہیں کہ جب تم ان کو پڑھو گے اور تمہارا دل زخمی ہو گا تب تمہیں سمجھ آئے تھی کہ مصطفیٰ " کے غلاموں کا تم نے کس طرح دل دکھایا۔232