تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 231
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 07 نومبر 1982ء ے ہو میں پانچ ، پانچ ہزار معصوم لوگوں کو زندہ آگ میں جلوا دیا۔اس الزام پر کہ وہ جادو گری کرتی تھیں۔یعنی ایسی عورتیں ، جن کے اوپر الزام تھے کہ یہ جادو گر نیاں ہیں۔اور وہ چیختی چلاتی، انکار کرتی رہیں کہ جادو گری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ہمیں علم ہی نہیں کہ جادوگری ہوتی کیا ہے؟ اس کے باوجود انہیں جلا دیا گیا۔میں صرف ایک ملکہ کا ذکر کرتا ہوں، جو انگلستان کی ملکہ تھی۔تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ صرف اس کے زمانے میں پانچ ہزار عورتوں کو زندہ آگ میں جلایا گیا ہے۔اس الزام کے نتیجے میں کہ وہ جادو گر نیاں تھیں۔میں نے ان سے کہا کہ سپین کی Inquisition کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔الزامات کے نتیجے میں عیسائی نے عیسائی پر ایسے ایسے دردناک مظالم کئے ہیں کہ اس تاریخ کے مطالعہ سے ہی انسان کے رونگٹے کھڑ۔جاتے ہیں۔آدمی پڑھتے پڑھتے پاگل ہونے والا ہو جاتا ہے کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان پر اتنے مظالم کر سکتا ہے؟ پھر جرمنی کی تاریخ آپ کے سامنے پڑی ہے۔تمام عیسائی مؤرخین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جرمنی کو تبلیغ کے ذریعے عیسائی بنانے کے لئے چرچ کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں اور اس قوم نے کلیہ عیسائیت کو رد کر دیا۔تب ہم نے تلوار پکڑی اور تلوار کی کاٹ پر زبردستی ان کو عیسائی بنایا ہے۔ایک جرمن بھی از خود عیسائی نہیں ہوا۔پس ساری جرمن قوم گواہ ہے کہ آپ نے تلوار کے زور سے ان کو ز بر دستی عیسائی بنایا ہے۔آپ ایک ثمینی پیش کر رہے ہیں، آپ کے گریبان میں تو ہزاروں خمینی شور مچارہے ہیں۔آپ اس کو گریبان کی آواز کو کیوں نہیں سنتے ؟ آپ کو صرف اسلام کا ایک خمینی نظر آرہا ہے اور اس غمینی کی آواز پر آپ اسلام کو متہم کر رہے ہیں۔اس لئے آپ کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔پرا۔جب تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا تھا تو ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں اور بلا استثناء ایک جگہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پریس کانفرنس میں یا مجلس میں، جہاں بڑے بڑے رؤسا اور صاحب فکر مدعو ہوا کرتے تھے، یہ سوال کرنے والوں نے پھر کوئی ایسا لفظ بولا ہو۔جب میں دیکھتا تھا کہ ان کہ سر جھک گئے ہیں اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں تو پھر میں ان کو اصل مقصد کی طرف لاتا تھا۔کیونکہ میرا مقصد یہ تو نہیں تھا کہ اسلام کی طرف سے محض ایک فتح کا اعلان کیا جائے۔ہمارا مقصد تو دل جیتنا ہے۔صرف احساس شکست دلا دینا اور تذلیل کرنا نہیں۔لیکن بعض دفعہ دل جیتنے سے پہلے تکبر توڑے جاتے ہیں اور احساس شکست پیدا کرنا پڑتا ہے۔جو فی ذاتہ مقصد نہیں ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کس طرح وہ اس قابل ہو جائیں کہ ان کے دل تیار ہوں اور ہم اسلام کے لئے ان کو جیتیں۔جب یہ قدم اٹھ جاتا تھا اور ان کے دلوں کی زمین تیار ہو جاتی تھی تب میں ان سے ایک اور بات کہتا تھا۔231