تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 185

تحریک جدید - ایک الہی تحریک ارشادات فرموده 123 اکتوبر 1982ء ”ہاں میرے ذہن میں بھی ہے۔پہلے تو ساری دنیا سے معلومات حاصل کریں۔کون کون سی زبان کس کس طریق پر سکھائی جارہی ہے؟ یہ جو Aids ہیں، یہ انشاء اللہ مہیا ہو جائیں گی۔جامعہ احمدیہ میں اس کے لئے کوئی ایسا سیل Coll قائم کیا جائے، جو زبانیں سکھانے کے لئے مخصوص ہو جائے۔اگر آپ کے پاس اس وقت عمارت میں گنجائش نہیں ہے تو نئی عمارت تجویز کریں یا لائبریری کے ساتھ ایک نیا ونگ قائم ہو جائے۔کوئی شکل ایسی بنی چاہیے، جہاں مستقل ایک انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز Institute of Languages بن جائے۔اس میں جو بڑی بڑی چوٹی کی زبانیں ہیں، وہ فوری طور پر داخل کر دی جائیں۔انگریزی اور عربی کے علاوہ فرانسیسی ہے، جرمنی ہے، سپینش ہے، پور جیگز (پرتگالی زبان) ہے، اٹالین ہے، چائینیز اور جینیز ہیں۔یہ ذرا مشکل ہوں گی۔لیکن بہر حال سیکھنی ہیں۔پھر رکش ہے، انڈونیشن ہے، فارسی ہے، رشین ہے۔یہ زبانیں دنیا کے اکثر حصہ کو Cover کر لیتی ہیں۔محترم ملک صاحب نے عرض کیا: چینی، جاپانی اور ٹرکی زبان کے تو ہمارے اپنے آدمی اچھے تیار ہورہے ہیں۔حضور نے فرمایا:۔ہاں وہ تیار ہورہے ہیں۔لیکن یہ اتنی مشکل زبانیں ہیں، خصوصا چینی زبان تو بہت ہی مشکل ہے۔دور بیٹھے اس پر مہارت حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔اس لئے کوئی اور سکالر تیار کریں جو بعد میں ان کی جگہ لے اور وہاں جا کر زبان سیکھ کر آئے۔حضور نے محترم ملک صاحب سے دریافت فرمایا کہ " کیا اس وقت زبان سیکھنے والا جامعہ احمدیہ میں کوئی موزوں لڑکا ہے؟“ ملک صاحب نے جوابا عرض کیا: ابھی کوئی تجویز تو نہیں لیکن بہر حال جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ایک دفعہ ایک جائزہ تو لیا گیا تھا کہ کون کون سے ایسے طالب علم ہیں، جن میں زبانیں سیکھنے کی استعداد موجود ہے۔حضور نے فرمایا:۔" مثلاً آپ کو چینی زبان سیکھنے کی استعداد کا کس طرح اندازہ ہوگا؟ کیا جولڑ کا چوں چاں زیادہ کرے، اس کے متعلق آپ سمجھیں گے کہ اس کو زیادہ زبان آتی ہے۔یہاں بیٹھے ہوئے اس کے متعلق آپ کو کیسے پتہ لگے گا کہ وہ چینی زبان سیکھ سکتا ہے یا نہیں؟“ محترم ملک صاحب نے جوابا عرض کیا: بعض طالب علموں میں زبان سیکھنے کی استعداد کا اندازہ ہم اس طرح لگاتے ہیں کہ مثلاً بعض طالب علم غیر ملکی لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی زبان بولتے ہیں۔اس طرح مثلاً انڈو نیشین لڑکوں کے ساتھ رہ کر بعض طالب علم انڈونیشین سیکھ لیتے ہیں۔حضور نے فرمایا:۔185