تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 154

خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک شرم کے مارے، ان سے کہا کہ مجھے تم چھوڑ دو، مجھے جلدی ہے۔انہوں نے کہا جلدی ولدی کوئی نہیں ، ہم نے تمہیں نہیں چھوڑنا۔اس نے کہا، اچھا پھر یہاں سے تو ہٹ جاؤ، یہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔وہ چل کر دور جانے لگا، انہوں نے اسے گیٹ پر پھر پکڑ لیا۔نہیں جانے دیا۔گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ اس کے پیچھے پڑے رہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے تھے ، جو یہ کام کر رہے تھے۔اس میں کسی انسانی طاقت کا بس نہیں تھا۔ایسی شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش نازل ہوئی ہے کہ اس پر جو میں نے اپنے پیغام میں لکھا ، وہ بالکل صحیح تھا۔حقیقت ہے کہ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ساری دنیا میں احمدی خدا کی راہ میں آنسو بہارہے ہیں۔ہر قطرہ جو گرتا ہے، بھاپ بن کر آسمان پر اٹھتا ہے، وہ فضلوں کی بارش بن کر دوبارہ ہم پر برسنے لگتا ہے۔دعا ہے، اللہ تعالیٰ رحمتوں کے یہ دور برقرار رکھے۔ایک سے ایک اگلی منزل کی طرف ہم بڑھتے رہیں۔اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور شکر کا حق ادا کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:۔لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم :08) جب تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور بھی بڑھاؤں گا۔وہ واقعہ تو آپ نے سنا ہوا ہے کہ جو بادشاہ بھی شکر گزار ہوتے ہیں، وہ بھی اچھی بات کے نتیجہ میں زیادہ فضل عطا کیا کرتے ہیں۔زہ والا واقعہ آپ میں سے اکثر نے سنا ہو گا۔بار بار بھی سناؤ تو اس کا مزہ ختم نہیں ہوتا۔کہتے ہیں، ایک بادشاہ سیر کے لئے نکلا۔اس نے اپنے وزیر کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ جب بھی میں زہ کہوں کسی اچھی بات پر تو تم اشرفیوں کی ایک تحصیلی عطا کر دیا کرنا۔چنانچہ اشرفیوں کی کئی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں ساتھ ہوا کرتی تھیں۔اس حال میں بادشاہ سیر کے لیے نکلتے تھے۔ایک کسان بوڑھی عمرکا بیچار استر ، اسی سال کا۔وہ کھجور کی گٹھلیاں لگارہا تھا۔بادشاہ نے اس سے تعجب سے پوچھا کہ اے کسان ! تم تو بوڑھے ہو گئے ہو، قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ہو، یہ کھجور کیوں لگا رہے ہو؟ کیوں بے کار محنت کر رہے ہو؟ اس نے کہا: ہمارے باپ دادا نے کھجور لگائے تھے ، ہم نے ان کا پھل کھایا۔اب ہم محنت کریں گے تو اگلے اس کا پھل پائیں گے۔بادشاہ کو یہ بات ایسی پیاری لگی کہ اس کے منہ سے زہ نکل گیا۔اسی وقت وزیر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی اسے پکڑا دی۔اس کسان نے کہا: بادشاہ سلامت! آپ تو کہتے تھے تمہاری محنت کو پھل نہیں لگے گا۔میری محنت کو ابھی پھل لگ گیا۔بادشاہ کے منہ سے پھر بے اختیار نکل گیا، زہ۔اس وزیر نے دوسری تحصیلی نکل لی اور اس کو پکڑا دی۔اس نے پھر کہا: بادشاہ سلامت! مجھے اور بھی تعجب ہے کہ کھجور تو سال میں ایک دفعہ پھل دیتے ہیں، میرے 154