تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 3

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 23 جولائی 1982ء مبلغین سلسلہ کو نہایت اہم اور گراں قدر نصائح خطاب فرمودہ 23 جولائی 1982ء حضرت خلیفة المسیح الرابع نے سرائے فضل عمر تحریک جدید کے لان میں باہر جانے والے مبلغین کرام کی دعوت میں جو خطاب فرمایا تھا، وہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:۔تشہد و تعوذ اور تسمیہ کے بعد فرمایا:۔”ایسے مواقع پر جو صیحتیں کی جاتی ہیں، ان کا مقصد یہ نہیں کہ نصیحتوں کی کوئی کمی ہے۔کیونکہ نصیحتیں تو سلسلہ میں بڑی کثرت سے موجود ہیں۔قرآن کریم ، احادیث نبویہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات، خلفاء کے ارشادات اور اس کے علاوہ جب سے وقف کا نظام با قاعدہ طور پر جاری ہوا ہے، حضرت مصلح موعود کے ارشادات بالخصوص بہت کافی وشافی ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی زائد بات سوچنے کی بھی گنجائش نظر نہیں آتی۔تو مقصد یہ نہیں کہ نصیحتوں میں کچھ اضافہ کیا جائے۔مقصد یہ ہے کہ بعض بھولی بسری نصیحتوں کو یاد کرایا جائے۔اس نقطہ نگاہ سے چند ایک امور میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔مبلغ جب باہر جاتا ہے تو اس کے سامنے دو قسم کے اندھیرے ہوتے ہیں۔ایک وہ، جو پیچھے چھوڑ کر جارہا ہے۔اس میں اس پر کئی قسم کے اندیشوں کا ابتلاء ہوتا ہے کہ میرے پیچھے میرے خاندان والوں کا کیا بنے گا؟ اور کچھ آگے اندھیرے در پیش ہوتے ہیں۔جہاں وہ جا رہا ہے، وہاں کے حالات سے وہ نا واقف ہوتا ہے اور نہیں جانتا کہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ کس قسم کے حالات میں مجھے کام کرنا پڑے گا ؟ کیا کیا مقامی مشکلات سامنے آئیں گی؟ وہاں کے بگڑے ہوئے حالات کے پیدا کردہ ایسے حالات، جو مبلغ کو کام سے غافل کرنے میں یا اس کی توجہ کا رخ پھیرنے میں ایک کردار ادا کرتے ہیں۔اس قسم کے اور بہت سے اندیشے اس کو لاحق ہوتے ہیں۔ان دونوں قسم کے اندیشوں کا اول حل تو دعا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف خاص گریہ وزراری کے ساتھ توجہ کرتے ہوئے ، جو مبلغ دعا کرتا ہے، اس کے سارے اندھیرے روشنیوں میں بدل دیئے جاتے 3