تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 105
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطاب فرموده 15 اکتوبر 1982ء احمدیت مستقل قربانیوں کا ایک لائحہ عمل ہے خطاب فرمودہ 15 اکتوبر 1982ء بر موقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ۔۔۔حالہی میں مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ تو فیق عطا ہوئی کہ مسجد سپین کے تاریخی افتتاح کا اعلان کرتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بھی بخشی کہ ہر جگہ اس کے فضلوں کے بے شمار رنگ ظاہر ہوتے ہوئے دیکھے۔جس طرح بارش میں قطرے گرتے ہیں، اس طرح ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی برسات ہوتی ہوئی دیکھی۔اس تصور سے دل حمد سے بھر جاتا ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ جب دل حمد سے بھر جائے تو چھلکنے بھی لگتا ہے۔اس کیفیت میں جب آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم سنی تو دل کی جو حالت ہوئی، وہ نا قابل بیان ہے۔کوئی الفاظ نہیں، جن میں اس کی کیفیت کو بیان کیا جاسکے۔کیسی پیاری راہ حمد کی ہمارے لئے آپ نے معین کر دی ہے۔انکساری اور عاجزی کی کیسی حسین شاہراہ ہمارے لئے کھول دی ہے۔یہ وہی شاہراہ ترقی اسلام ہے، جس پر چل کر ہمیں فتوحات نصیب ہوں گی۔یہ وہی رستہ ہے، جس رستے سے خدا ملتا ہے۔بے شمار رحمتیں ہوں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کہ جنہوں نے انانیت کی ساری راہیں بند کر دیں اور عاجزی کی ساری راہیں کھول دیں۔ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع ، ایک ایک لفظ سچائی میں ڈوبا ہوا ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام ہی آپ کی سچائی کی دلیل ہے۔کوئی سعید فطرت انسان اگر اس کلام کو سنے تو ممکن نہیں ہے کہ وہ اس کلام کے کہنے والے کے حق میں اس کی سچائی کی گواہی نہ دے۔حیرت انگیز طور پر پاکیزہ جذبات عشق میں ڈوبا ہوا یہ کلام سن کر روح پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔جب یہ کلام پڑھا جارہا تھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ احمدی نوجوان جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تبلیغ کیسے کریں؟ ہمیں دلائل یاد نہیں، ہمیں ملکہ نہیں کہ ہم مناظرہ کر سکیں ، ہمیں عربی نہیں آتی ، ہمیں استدلال کا طریق معلوم نہیں۔میں سوچ رہا تھا کہ انہیں اس سے زیادہ اور کس چیز کی ضرورت ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام یاد کریں اور درویشوں کی طرح گاتے ہوئے قریہ قریہ پھریں اور اسی کلام کی منادی کریں۔اور دنیا کو بتائیں کہ وہ آگیا ہے، جس کے آنے کے ساتھ تمہاری نجات وابستہ ہے۔105