تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 957
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرمودہ 28 مارچ 1982ء انسان کو ہلاکت کے گڑھے سے بچانے والا باز و جماعت احمد یہ ہے خطاب فرمودہ 28 مارچ1982ء بر موقع مجلس شوری اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل فرمایا ہے اور جماعت، جو ایک سے شروع ہوئی تھی ، کروڑ سے بھی آگے نکل گئی۔اور دن بدن Momentum gain کر رہی ہے۔یعنی ترقی کی رفتار پہلے سے زیادہ تیز ہو رہی ہے۔اور ایک لمبازمانہ گزرنے کے باوجود (قریباً ترانوے سال ہو گئے ) جماعت زندہ اور بیدار ہے۔جماعت بڑھاپے میں نہیں ، جوانی میں ترقی کر رہی ہے۔جماعت کے جو مسائل ہیں، ان کا تعلق ایک طرف ساری دنیا سے نوع انسانی سے ہے اور دوسری طرف اندرونی مسائل سے ہے۔دنیا سے ہمارا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خدا تعالیٰ نے كافة للناس اور رحمت بنا کر بھیجا، اس وجہ سے ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ قوم، جونوع انسانی کی شکل تھی، یعنی خطوں میں بٹی ہوئی قوم، جن کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ، اس نوع انسانی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اور رحمتوں سے حصہ ملے۔اور وہ بدقسمتی کی حالت میں اس دنیا سے معدوم نہ ہوں۔لیکن جو طاغوتی طاقتیں ہیں، وہ نوع انسانی کو انتہائی خطرناک ہلاکت کی طرف لے جارہی ہیں۔جود ہر یہ ہے، اسے بھی یہ احساس ہے کہ ہلاکت ہمارے سامنے ہے۔لیکن اسے یہ علم نہیں کہ اس ہلاکت سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟ پچھلے دورے پر یورپ میں جب میں نے یہ کہا کہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جماعت کی جو دوسری صدی ہے، وہ اسلام کے غلبہ کی صدی ہوگی اور دنیا کی اتنی اکثریت اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی کہ باہر رہنے والے چوہڑے چماروں کی طرح ہوں گے، جن کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔اس لئے اگر تم نہیں تو تمہاری نسلیں جو ہیں، انہیں اسلام کے جھنڈے تلے آنا پڑے گا۔تو ایک صحافی مجھے پوچھنے لگے کہ ایک طرف آپ یہ کہتے ہیں کہ دنیا اپنے سامنے مکمل تباہی دیکھ رہی ہے، دوسری طرف آپ یہ کہ رہے ہیں کہ دنیا کی اکثریت اسلام میں داخل ہو جائے گی۔میں نے انہیں کہا کہ ہم تمہیں اس ہلاکت سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر تم نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی ہلاکت کے 957