تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 954 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 954

ارشاد فرمودہ 27 مارچ1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد پنجم استقبال کے لئے ائیر پورٹ پر موجود تھے۔اور اب 80ء میں ائیر پورٹ بھرا ہوا تھا۔اور تین میل لمبی احمد یوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔دس سال کے اندر خدا نے یہ کامیابی عطا فرمائی۔ان دس سالوں میں بعض چیزیں نہیں ہو رہی تھیں۔مثلاً ابھی تک جو مسلم نارتھ کہلاتا ہے یا دوسرے صوبوں کے مسلمان تھے ، ان میں بڑا تعصب تھا۔اب 80ء میں جب میں وہاں گیا ہوں، میں نے ان سے پیار سے باتیں کیں۔چنانچہ اب وہ پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ ہمارے ہاں سکول کھولیں، ہسپتال بنا ئیں۔علاوہ ان چار ہسپتالوں کے جو حکومت نے درخواست کی کہ اگر تم یہ نہیں چاہتے کہ یہ ٹیسٹ عیسائی بن جائے ، وہ (pagans ) پیکنز کو عیسائی بنارہے ہیں، اس کے مداب تک۔ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ انتظام کرتا ہے۔بیچ میں کچھ ڈاکٹروں کی کمی تھی ، اب میرے پاس ریز رو میں ہیں۔اب میں نے ان کو کہا ہے، یہ جہاں بھی کہتے ہیں، ان کے لئے ہسپتال بنوا دیں۔اور خدا تعالیٰ نے نفرت کو فرشتوں کے ذریعہ پیار میں بدلنا شروع کر دیا ہے۔پہلے تو نفرت تھی۔وہ لوگ نام سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔پھر وہ شروع میں جو گئے، مثلاً سکوٹو میں صرف چار، پانچ احمدی اور وہ بھی چھپے ہوئے تھے۔حکیم فضل الرحمان صاحب کے شاگرد تھے اور احمدیت کی وجہ سے بڑے پڑھ گئے تھے۔اب کوئی وزیر بنا ہوا تھا اور کوئی کچھ، اور کوئی کچھ۔اور اب وہ علاقے خود ما نگ کر سکول کھلوار ہے ہیں۔پس زندگی میں کوئی تکلف نہیں پیدا کرنا چاہیے۔ہر انسان دوسرے انسان کا بھائی ہے۔اور ہر ایک کی عزت اور شرف اور احترام قائم ہے۔سوائے اس احمق کے جو یہ کہے کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کے اعلان کے بعد بھی ، میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونچا ہوں، اس لئے میں برابری نہیں کر سکتا۔تو وہ جانے اور اس کا خدا جانے۔اگر جہنم اس کے لئے مقدر ہے تو وہ جانے۔ہم جو خدا کی معرفت رکھنے والے اور خدا کی مخلوق سے پیار کرنے والے لوگ ہیں ، ہمیں ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سبق دیا ہے۔ہمارے پاس پیسہ نہیں لیکن جذبہ ہے، جس کی قدر کی جاتی ہے۔فدائیت ہے، جس کا احترام کیا جاتا ہے۔انسانیت ہے، ابھی میں نے انسانیت کا لفظ اس لیے کہہ دیا کہ بعض غیر مسلم ہیں، ظاہری لحاظ سے ان میں بڑی انسانیت ہے، کسی کو دکھ نہیں دیتے، کسی کو ایذا نہیں پہنچاتے کسی کے خلاف سخت بات منہ سے نہیں نکالتے ، گالی نہیں دیتے۔خدا کو نہیں مانتے لیکن یہ ایک ظاہری چیز ہے۔خدا تعالیٰ نے جو اچھے اخلاق کی استعداد دی ہے، اس میں ایک جگہ سے انہوں نے کچھ اٹھالیا، باقی جگہ سے محروم ہیں۔میں انہیں مفلوج کہا کرتا ہوں۔لیکن ان میں کچھ جان تو ہے۔ہم تو ہر ایک کو برابر سمجھتے ہیں۔اور میں 954