تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 79 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 79

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مارچ 1974ء لیکن جو ہماری ذمہ داری ہے، جس کی طرف میں بار بار توجہ دلاتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ فخر نہ پیدا ہو، غرور نہ پیدا ہو، تکبر نہ پیدا ہو، سر ہمیشہ زمین کی طرف جھکے رہیں۔تاکہ وہ حدیث ہمارے حق میں بھی پوری ہو، جس میں کہا گیا تھا کہ جب خدا کا ایک مخلص بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے اور تواضع کی راہوں پر چلتا ہے تو اللہ تعالی ساتویں آسمان تک اس کی رفعتوں کا سامان کر دیتا ہے۔ساتویں آسمان تک پہنچ کر بھی ہمارا دل خوش نہیں بلکہ اس سے بھی بلند تر اور ارفع جو چیز ہے، یعنی خدا تعالیٰ کا پیار، وہ ہمیں ملنی چاہیے۔اس میں یہی اشارہ ہے کہ تمہاری کوشش کے نتیجہ میں ساتواں آسمان تمہیں ملے گا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نتیجہ میں اس کا ثواب، جو کوشش سے زیادہ ملا کرتا ہے، یعنی اس کی رضا وہ تمہیں مل جائے گی۔پس ہم تو خدا کے پیار کے بھوکے ہیں اور ہمارے دل میں تو یہ خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم ہو اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظمت قائم ہو انسان کے دل میں، جس عظیم مقام پر اللہ نے آپ کو کھڑا کیا۔ہماری تو یہ خواہش ہے، ہم تو ناچیز ذرے خدا تعالیٰ کے پاؤں کی گرد سے بھی حقیر ہیں۔اگر تمثیلی زبان میں خدا تعالیٰ کے پاؤں کا ذکر کیا جائے تو خدا تعالیٰ کے پاؤں کے ساتھ جو ذرے مٹی کے لگ سکتے ہیں، ہم میں تو وہ بھی طاقت نہیں ہے۔لیکن یہ اس کی رحمت ہے کہ وہ پیار سے ہمیں پکڑتا، پیار سے ہمیں اٹھاتا اور اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے اور ہمیں یہ تسلی دیتا ہے کہ ادھر ادھر کیوں دیکھتے ہو؟ ساری دنیامل کر بھی تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ، ساری دنیامل کر بھی تمہیں نا کام نہیں کرسکتی۔پس ہمارے دل حمد سے لبریز ہیں کہ چھ کروڑ سے اوپر تک وعدے پہنچ گئے۔اور ہماری روح اور ہمارا ذہن اس کے حضور نہایت عاجزی سے جھکا ہوا، یہ دعائیں کرتا ہے کہ وہ اپنی رحمت سے، نہ ہمارے کسی فعل سے اور ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں ہمیں کامیاب کرے۔اور ہمیں غلبہ اسلام کے دن دیکھنے نصیب ہوں“۔( مطبوعه روز نامہ الفضل 11 اپریل 1974-) 79