تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 924
ارشاد فرمودہ 04 اپریل 1981ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم یا یہ خیال آیا کہ اگر عید گا ہیں ہمارے پاس ہوں، یورپ کے ہر شہر میں تو لوگ عید کی نماز پڑھنے کے لئے جاتے ہیں۔عید گاہ ایک ادارہ ہے، اسلام کے اندر یعنی عید کی نماز سنت نبوی کے مطابق جہاں تک ممکن ہو،شہر سے باہر جا کے پڑھنی چاہئے۔تو اگر مثلاً فرینکفورٹ ہے، اس سے پندرہ بیس کلو میٹر باہر جوان لوگوں کے لئے کوئی فاصلہ نہیں) ہمارے پاس کوئی چھوٹا سا ٹکڑا ہو، پانچ ، دس ایکڑ کا اور وہاں جماعت جا کے عید کی نماز پڑھا کرے تو سارا سال وہاں لوگ اپنے بچوں کو لے کر چھٹی والے دن پنک کے لئے جاسکتے ہیں۔وہاں جو عارضی طور پر تھوڑے وقت کے لئے ملاپ ٹوٹتا ہے، ایک اس شکل میں کہ سکولوں کے طلبہ اور طالبات آجاتے ہیں، ہمارے مشن ہاؤس میں اپنے اساتذہ کے ساتھ اور وہ کہتے ہیں، ہمیں اسلام کے متعلق بتاؤ ؟ پھر سوال وجواب ہوتا رہتا ہے۔ایک گھنٹے ، ڈیڑھ گھنٹے کے لئے ملاپ ہوتا ہے۔پھر وہ طالب علم کبھی بھی کسی مسلمان کے سامنے نہیں جاتا، جس سے وہ اسلام کی بات سن سکے۔اگر یہ عید گاہ باہر ہو اور ان کے نام ہمارا مشن جو ہے، وہ نوٹ کرتا ہے، یا درکھتا ہے۔ہمارے بچے جائیں تو انہی کو دعوت دی جاسکتی ہے کہ ہم فلاں تاریخ کو پکنک منارہے ہیں، آپ ہمارے ساتھ آ کے پکنک منا ئیں تو بہت سارے بچے تیار ہو جائیں گے۔تو اسی طرح یہ چیزیں ہیں ، ملاپ کی۔اور جس سے وہ پوری توجہ کے ساتھ ہماری باتیں سنیں۔اسلام کے اندر بڑی کشش ہے کہ وہ خود اپنی طرف کھینچتا ہے“۔(رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ 03 تا 105 اپریل 1981ء) 924