تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 825
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 26 مارچ 1981ء احمدیت آنے کے بعد اب ہم فخر سے ذکر کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔احمدیت نے ہمیں بتایا کہ اسلام کی قوت احسان اور اسلام کی عظمتیں کیا ہیں؟ ساتھ ہی وہ شخص بار بار یہ کہتا تھا کہ میں احمدی نہیں ہوں لیکن یہ امر واقعہ ہے، جو میں بیان کرتا ہوں۔حضور نے مغربی افریقہ کے ایک اور ملک غانا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ و اس ملک میں کئی جگہ سے یہ اطلاع آرہی ہے کہ عیسائی عیسائیت سے بیزار ہورہے ہیں۔حضور نے جماعت احمدیہ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی حکومتوں کو پتہ ہے کہ ہم کبھی ایک دھیلہ بھی ان کے ملک سے باہر نہیں لے کر گئے۔ہم نے خدمت کی ہے اور ہماری خدمات کا وہ اعتراف کرتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ عیسائی بھی اس ملک میں محبت کا نام لے کر گئے لیکن وہاں کی کانوں سے ہیرے، جواہرات اور سونا نکال کر لے گئے۔یہ ما بہ الامتیاز ہے، عیسائیوں کی تعلیم اور مسلمانوں کی تعلیم کا۔افریقہ میں پچھلے دس سالوں میں کئی ممالک میں انقلابات آئے ہیں۔لیکن کسی نے جماعت کو کچھ نہیں کہا۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو سیاست سے کوئی غرض نہیں۔ہم صرف خدمت کرنے اور پیار کرنے آئے ہیں۔ہم تو ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہیں، جنہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ اور اس طرح سے مساوات کی ایک ٹھوس بنیاد قائم کر دی تھی۔حضور نے فرمایا کہ ” میں نے اس پر بہت سوچا اور غور کیا ہے اور میں علی وجہ البصیرت اس پر پہنچا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ اعلان کر کے خود کو گرا کر نچلے درجے پر نہیں لے گئے بلکہ انسانیت کو اٹھا کر اونچے مرتبے پر لے گئے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ”میں نے1970ء میں جب پہلی مرتبہ ایک افریقی بچے کو پیار کیا تو وہ لوگ حیران رہ گئے کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا انسان بھی ہے، جو ان سے اور ان کے بچوں سے پیار کرے؟“ حضور نے فرمایا کہ مجھے ان لوگوں پر سخت رحم آیا اوران پر ظلم کرنے والوں پر شدید غصہ آیا۔825