تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 824
اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 26 مارچ 1981ء حضور نے فرمایا:۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم میں نے کہا کہ تمہاری نام نہاد مہذب دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ آج دو چیزیں نمایاں ہیں۔ایک یہ کہ اس دنیا نے ہلاکت کے اتنے سامان بم وغیرہ اکٹھے کرلئے ہیں کہ ایک ایک ہم ہزاروں ہزار انسانوں کی ہلاکت کے لئے کافی ہے۔دوسری طرف صورتحال اس سے بھی مہلک ہے کہ اس دنیا نے مسائل کے ایسے انبار لگا دیئے ہیں، جن کا حل انہیں نہیں مل رہا۔حضور نے مزید فرمایا:۔میں نے انہیں بتایا کہ میرے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان مسائل کو حل کئے بغیر تم اپنے معاشرے میں امن اور اطمینان قائم نہیں کر سکتے۔جوں جوں تم آگے بڑھتے جاؤ گے، مسائل بڑھتے جائیں گے۔حتی کہ ایک وقت وہ آئے گا جبکہ مسائل اتنے بڑھ جائیں گے کہ تمہارا راستہ بند ہو جائے گا اور تمہیں کچھ نظر نہیں آئے گا۔اس وقت اسلام آئے گا اور کہے گا کہ سیارے مسائل میں حل کرتا ہوں اور اس وقت اسلام ایٹم بم اور تلوار کے زور سے نہیں بلکہ اپنے حسن اور اپنی تعلیم کی عظمت کے نتیجہ میں اپنے آپ کو منوائے گا اور دنیا یہ جان لے گی کہ اسلامی تعلیم پر عمل کئے بغیر چارہ نہیں“۔۔۔۔اسلام میں بڑا حسن اور نور ہے اور قوت احسان ہے اور آج خدا نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ یہی مذہب اسلام غالب آکر رہے گا“۔وو ( مطبوعه روزنامه الفضل 106 اپریل 1981 ء ) حضور رحمہ اللہ نے افریقہ میں جماعت احمدیہ کی کامیابیوں کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ افریقہ میں ہم ایسے وقت میں گئے جبکہ وہاں کے ملکوں مثلاً غانا میں، سیرالیون میں ، آئیوری کوسٹ میں ایک پرائمری سکول بھی مسلمانوں کا نہیں تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ مسلمانوں کے علماء نے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ دنیاوی علم کا حصول کفر ہے۔اور اس طرح سے دو نسلوں کے بعد جب غیر ملکیوں نے افریقہ کے ممالک کا اقتدار چھوڑا تو اقتدار میں سارے کے سارے غیر مسلم تھے۔مثلاً نائیجیریا میں بہت بڑی اکثریت مسلمانوں کی ہے، لیکن جب 1970ء میں، میں وہاں گیا تو وہاں پر ایک عیسائی اقتدار کی کرسی پر بیٹھا تھا۔اگر چہ وہ آدمی بڑا اچھا تھا لیکن وہ تھا تو عیسائی“۔حضور نے بتایا کہ سیرالیون کے ایک پبلک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ اس ملک میں احمدیت کے آنے سے پہلے جب کسی محفل میں اسلام کا ذکر آتا تھا تو ہماری نظریں جھک جاتی تھیں۔لیکن۔824