تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 806 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 806

ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پنجم جب محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوئے ، وہ انقلابی تبدیلی تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کے لئے وہ ایک انقلاب تھا۔آندھی اور طوفان کی طرح آگئے ناں لوگوں کے نزدیک۔ہمارے نزدیک تو صبح کی ٹھنڈی ہوالے کے وہ پہنچ گئے ، گرم ریگستان سے نکل کے سندھ کے اندر۔جس وقت طارق نے اپنی کشتیاں جلائیں ، کیا اس کا وہ فعل انقلابی نہیں تھا؟ بالکل انقلابی تھا۔مرورزمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انقلاب عظیم ہے۔خدا تعالیٰ نے اس انقلاب کے اندر انقلابی جلوے بھی اپنی صفات کے دکھائے، جلال کے جلوے اور ارتقائی جلوے بھی اپنی صفات کے دکھائے اور جمال کے جلوے بھی دکھائے۔تو یہ جس کو میں کہتا ہوں علی وجہ البصیرت غلبہ اسلام کی صدی، اس کے اندر ایک دن یہ انقلاب آ جانا ہے۔ہر چھوٹا انقلاب، انسانی ہاتھ کا انقلاب۔میں غور کرتارہتا ہوں، ہر انقلاب v arrow ہے،Pointer ہے، اسلام کے آخری غلبہ کی طرف وہ اشارہ کر رہا ہے۔اور اس کے لئے ہمیں تیاری کرنی چاہئے۔قرآن کریم نے کہا تھا:۔وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاعَدُّوا لَهُ عُدَّةً (توبه : 46) اس وقت دشمن حملہ آور تھا اور مسلمان کو اپنے دفاع کے لئے ، اپنے عقیدہ کے دفاع کے لئے، اپنے مذہب اور دین کے دفاع کے لئے جنگ کرنی پڑی تھی ، وہ مجبور ہو گئے تھے۔اس وقت کی تیاری اور تھی۔یہ تیچ ہے۔لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ جس شخص نے خدا کی راہ میں جہاد کرنے کی نیت کی ہو، وہ اس کے لئے وقت سے پہلے تیاری کیا کرتا ہے۔اس وقت جنگ تلوار کی نہیں ، بندوق کی نہیں۔اس وقت تو جنگ ہے، دلائل کی اور آسمانی نشانوں کی۔اگر جماعت احمدیہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ایک منتخب جماعت ہے، جو اسلام کو غالب کرنے کے لئے دنیا میں قائم کی گئی اور اس کے لئے وہ مصروف عمل ہے تو اگر لَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ کے مطابق ان کی نیتیں یہ ہیں کہ ساری دنیا میں پھیلیں اور ظلمات کو دور کر کے وہاں اسلام کی روشنی پھیلا دیں تو لَاعَدُّوالَهُ عُدَّةً کی رو سے یہ ضروری ہے کہ دوست اپنی عقلوں میں جلا پیدا کریں، آسمانوں کے نور کو جذب کریں۔تمہارے وجود میں سے نور نکلنا چاہئے۔806