تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 805 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 805

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1980ء ایک انقلاب آ گیا۔آیا تو وہ ایک سیکنڈ میں۔آیا تو صرف اس سیکنڈ میں، جس وقت اہل مکہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے قدوسیوں کے ساتھ وہاں دیکھا۔وہ اتنی جنگجو قوم تھی قتل و غارت کرنے والی اور اسلام کو مٹانے کی کوششیں کرنے والی قوم تھی۔لیکن اس وقت فرشتوں نے ان کے دلوں پر تصرف کر کے ان کو کہا ، اب تم مسلمانوں سے نہیں لڑ سکتے۔یہ وہ انقلاب عظیم ہے۔چند منٹ پہلے نہیں پتا کیا ہو جانا ہے؟ اب بھی یہی ہونا ہے، انشاء اللہ ہونا ہے، غلبہ اسلام کی صدی، جس کو میں کہتا ہوں، اس کے اندر ہی ہو جاتا ہے۔اس سلسلہ میں ہمیں دو دعائیں کرنی چاہئیں۔ایک تو یہ کہ خدا ہماری زندگیوں میں اس کے آثار ہمیں دکھا دے۔اور دوسرے یہ کہ ہر نبی بشیر بھی ہے اور نذیر بھی ہے اور سب سے بڑے بشیر اور نذیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔پہلوں نے تو کسی نے ایک گاؤں کے متعلق ڈرایا کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے، اگر اپنی بدیاں نہ چھوڑو گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔اور مخاطب صرف ایک گاؤں تھا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نذیر کی حیثیت میں بات کی تو مخاطب نوع انسانی کو کیا۔اس لئے ہمیں دعا یہ کرنی چاہئے کہ نوع انسانی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو انداز ہے، وہ اسے سمجھے اور تباہی کی آخری گھڑی سے قبل اسے تو بہ کرنے کی توفیق مل جائے اور نوع انسانی کا ایک بڑا حصہ، ایک بڑا ٹکڑا تباہ ہونے کے بعد اس کا ایک حصہ اسلام میں داخل نہ ہو بلکہ ساری کی ساری نوع انسانی اسلام میں داخل ہو جائے۔اور لوگ خدا کی نگاہ میں اپنے لئے پیار پائیں اور اس سے دنیا بدل جائے گی۔یہ کوئی محض خیالی پلاؤ والی بات نہیں ہے۔ہمیں یہ نظر آ رہا ہے کہ اسلام کے حق میں انقلاب رونما ہونے والا ہے۔ہم ان کے ساتھ تعلیم کا مقابلہ کرتے ہیں۔کیا انقلاب لائی ہے، اسلام سے باہر کی دنیا ؟ کوئی انقلاب نہیں لائی۔ابھی ایک نسل ختم نہیں ہوتی تو تریریں پڑ جاتی ہیں، رخنے پڑ جاتے ہیں، اس انقلاب کے اندر۔دوسرے یہ کہ ہر انسانی انقلاب بیشتر ارتقاء کے اوپر انحصار کر کے آگے بڑھا ہے۔اور وہی اس کی کمزوری بن گیا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا انقلاب ، اپنی انقلابی شکلیں چودہ سوسال میں دکھاتا رہا ہے اور پھر ساتھ ارتقاء بھی۔کیونکہ دونوں خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں۔ایک انقلابی جلوہ، دوسرا ارتقائی جلوہ۔ایک یہ کہ ماں کے پیٹ میں ایک وقت میں صرف مادی لوتھڑہ ہے، جس کے اندر روح نہیں۔یورپ کے جو فلاسفر ہیں، انہوں نے بھی حیران ہو کے کہا ہے کہ یہ تو ماننا پڑے گا کہ یہاں یہ ارتقاء نہیں آیا بلکہ یکدم ایک بے جان میں جان پڑ گئی ، بے روح میں روح پڑ گئی۔تو یہ انقلا- ہے۔پھر انسان کی زندگی میں ہزار ہا انقلاب آتے ہیں۔805