تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 789
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1980ء حضور نے فرمایا کہ ” جب سپین کے مسلمان آپس کی اخوت کے سبق کو بھول گئے اور انہوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا تو 744 برس قبل عیسائیوں نے قرطبہ کے نواحی علاقے پر حملہ کر دیا۔اور بعض مسلمان نواب زادے جن کو اپنی فکر تھی اور اسلام کی فکر نہیں تھی، وہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر اس حملہ میں شامل ہوئے کہ یہ علاقہ اس مسلمان حاکم کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس طرح سے یہ علاقہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا“۔حضور نے فرمایا کہ " سپین کے علاقے میں مسلمانوں کے خلاف آخری معرکہ 500 سال قبل لڑا گیا۔اس لئے ہمارے رسالوں اور اخباروں میں کبھی یہ لکھا گیا کہ 500 سال بعد مسجد کا سنگ بنیادرکھا گیا اور کبھی یہ لکھا گیا کہ 700 سال بعد مسجد کا سنگ بنیا درکھا گیا۔کیونکہ جب قرطبہ عیسائیوں کے ہاتھ چلا گیا تو پھر وہاں پر کوئی مسجد نہ بنی اور مسلمانوں کو اور اسلامی معاشرہ کو شکست کھانی پڑی۔اس کے 744 سال بعد پہلی مسجد کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل کے ساتھ وہاں پر رکھی گئی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مسجد کا سنگ بنیا در کھتے وقت وہاں پر جو فضا پیدا ہوئی اور جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے ، وہ خدا کے سوا اور کوئی پیدا نہیں کر سکتا۔یعنی پہلے پیڈرو آباد میں زمین خریدی یہ پوچھ کر کہ یہاں مسجد بنانے دو گے یا نہیں؟ پھر نقشہ وغیرہ منظور ہو گیا اور ایک دن وہ گاؤں اس طرح ہماری خوشی میں شامل ہوا کہ جس طرح ان کی عبادت گاہ کی بنیاد رکھی جارہی ہو۔وہ لوگ اتنے خوش تھے کہ ان کے چہروں پر خوشی و مسرت کے دھارے پھوٹتے دکھائی دے رہے تھے۔دلوں کی یہ کیفیت نہ میں پیدا کر سکتا ہوں اور نہ آپ پیدا کر سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ اس کی تعمیر پر قریباً ہمیں لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔یعنی 80 ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ۔اور یہ سارا خرچ انگلستان کی ساری جماعت صد سالہ جو بلی کی مدد سے خرچ کرے گی“۔حضور نے فرمایا کہ ”ہمارے حالات ایسے ہیں کہ ہم مجبور ہیں کہ اس قسم کی نیکیوں سے محروم رہیں، جن کا تعلق بیرون پاکستان سے ہے۔کیونکہ ہمارے ملک کو فارن ایکیھنچ کی بڑی تنگی رہتی ہے اور ہم روپیہ با ہرنہیں بھیج رہے۔789