تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 782
اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم حضور نے فرمایا کہ ” جہاں ضرورت ہو اور کافی بچیاں ہوں، وہاں یہ انتظام کر دیا جائے“۔حضور نے احباب جماعت کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ”دوست چاہیں تو اس سلسلہ میں تجاویز لکھ کر مجھے بھجوا دیں۔حضور رحمہ اللہ نے اس ضمن میں یہ بھی فرمایا:۔بچوں میں تعلیم کا شوق پیدا کرنے کے لئے میں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ تمام طلباء وطالبات جو بورڈ اور یونیورسٹی میں پہلے دو یا تین سو میں آئیں گے، ان کو دعائیہ کلمات لکھ کر اپنے دستخطوں سے میں کوئی کتاب تحفہ کے طور پر بھیجواؤں گا“۔حضور نے فرمایا کہ ان پوزیشنوں پر آنے والے بچے بھی ذہین ہوتے ہیں منتظمین کو چاہیے کہ اس کی طرف بھی توجہ دیں اور بار بار یاد دلائیں۔حضور نے فرمایا کہ شاید اس بارے میں زیادہ اعلان نہیں ہوا۔یہ اعلان بار بار ہوتے رہنا چاہیئے“۔اس سے قبل حضور نے اپنے خطاب کے آغاز میں تعلیمی پالیسی کا ذکر فرماتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں دنیا میں رائج دو متضاد فلسفوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ایک فلسفہ تو یہ ہے کہ ہماری ساری ترقیات کا انحصار دنیاوی علوم پر ہے۔اور ایک یہ کہ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا کا کفر ہے۔حضور نے فرمایا کہ قرآن کہتا ہے کہ نہ دنیاوی علوم پر ساری ترقیات کا انحصار ہے اور نہ ان کا سیکھنا کفر ہے۔قرآن کہتا ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے محکم و ابلغ نظام میں جتنے بھی اصول ہمیں کارفرما نظر آتے ہیں اور وہ اصول بھی جو آئندہ دس، بیس سال کے بعد دریافت ہو کر مروجہ علوم کی فہرست میں آجائیں گے۔اور جن پر دنیوی علوم کی عمارت استوار ہے، وہ سب خدا تعالیٰ کے وضع کردہ قوانین ہیں۔حضور نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ کائنات کے گوشے گوشے میں اور قرآن کی آیت آیت میں خدا کی صفات کے جلوے تلاش کرو۔قرآن کہتا ہے کہ اس دنیا کے ذرے ذرے اور قرآن کریم کے لفظ لفظ میں خدا کی صفات کے جلوے تلاش کرو۔اور خدا کی صفات کا جو جلوہ ہے، وہ کفر نہیں ہو سکتا۔782