تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 61

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 22 فروری 1974ء سے اوپر چلی گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ اللہ تعالی فضل کرے گا۔پتہ نہیں کیوں نو کروڑ کے اعدادو شمار میرے ذہن میں آتے ہیں کہ وہاں تک پہنچ جائیں گے۔انشاء اللہ۔اخلاص کچھ وضاحتیں بھی طلب کرتا ہے۔جتنا کوئی مخلص ہو، اتنا ہی وہ ڈرتا بھی ہے۔تو ان میں سے بعض وضاحتیں اس وقت میں کرنا چاہتا ہوں۔مثلاً ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میری عمر اس وقت 77 سال ہے اور وعدوں کی ادائیگی کا پھیلاؤ پندرہ سال سے کچھ زائد عرصہ پر ہے۔تو بظاہر تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ انتقالمبا عرصہ میں زندہ رہوں۔ویسے اللہ تعالیٰ فضل کرے اور عمر دے تو اور بات ہے۔لیکن سنتر سال میں پندرہ جمع کریں تو 92 سال ہوتے ہیں۔لیکن اس ملک میں تو 0 7 یا اسی سال بڑی عمر مجھی جاتی ہے۔تو انہوں نے یہ سوال کیا کہ اگر میں پندرہ سال کا وعدہ کروں اور میری وفات ہو جائے تو کیا مجھے گناہ ہو گا ؟ یا میری وفات کے بعد وعدہ کی وہ ذمہ داری میری اولاد پر پڑ گئی اور اس نے غفلت برتی تو کیا اس پر گناہ ہوگا ؟ حالانکہ اولاد نے تو وعدہ نہیں کیا ہو گا۔وعدہ تو انہوں نے اپنا کیا ہے۔پس ایک تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک زندگی اور موت کا سوال ہے، پانچ سالہ بچہ بلکہ ایک دن کے بچے سے بھی موت اتنی ہی قریب ہے، جتنی 77 سال کے بوڑھے سے قریب ہے۔زندگی اور موت تو ہمارے اختیار میں نہیں۔اس لئے عام طور پر ہم اخلاص کی وجہ سے یہ ذہن میں رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور اتنی زندگی مل جائے گی۔لیکن کوئی شخص یقین نہیں رکھتا۔ایک پل کا یقین نہیں ہوتا تو پندرہ سال تو بے شمار پلوں کا مجموعہ ہے۔لیکن بعض 90 یا95 سال کی عمر کے ہیں یا بعض ایسے مریض ہیں، مثلاً ایک سل کا مریض ہے، یہ بیماری ایسی ہے کہ وہ بظاہر زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا۔باقی اللہ تعالیٰ سب قدرتوں کا مالک ہے، اس کی قدرتوں میں تو کمی نہیں ہے۔لیکن بظاہر حالات خدا تعالیٰ کا جو قانون چلتا ہے، وہ ڈاکٹروں کے نزدیک یہی ہے کہ ایک سل کے مریض کو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ چالیس سال تیری عمر ہے۔کئی لوگوں کی عمر ڈاکٹروں کے کہنے کے خلاف اس سے بڑھ بھی جاتی ہے یا پھر کینسر کا مریض ہے۔یہ حالات استثنائی حالات ہیں۔ان صورتوں میں کہ مثلاً کینسر کا مریض ہے یا مثلاً اسی سال عمر کا ہے، اس صورت میں ایک راہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ یہ وعدہ کرے کہ میں اپنی آمد کے لحاظ سے سولہ سال کا یہ وعدہ کرتا ہوں اور میں یہ وضاحت کر دیتا ہوں کہ اگر کوئی دوست فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی اولاد پر ذمہ داری نہیں پڑتی۔دوسرے یہ کہ اگر وہ فوت ہو جاتے ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔کیونکہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا 61