تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 726 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 726

خطاب فرمودہ 02 نومبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم کے لحاظ سے، اپنی روحانی عظمتوں کے لحاظ سے ایک فرد واحد ہیں کہ جس کے مقابلے میں کوئی اور انسان نہ اور نہ کسی نے پیش کیا ، نہ کوئی کر سکتا ہے، نہ کر سکے گا۔یہ اپنی جگہ درست، لیکن آپ بشر بھی ہیں، انسان بھی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا کہ دنیا میں یہ اعلان کر دو کہ بشر ہونے کے لحاظ سے میں ہر انسان کے برابر ہوں۔کسی انسان، مرد ہو یا عورت، اس میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں:۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف: 111) اور یہ اتنا عظیم اعلان ہے کہ جس وقت میں نے 1970ء میں نا نا ہی میں نیچی مان کے مقام پر دس ہزار کے مجمع میں اور بہت سارے اس وقت آئے ہوئے تھے ، بت پرست وغیرہ بھی یہ اعلان کیا۔ان کا لاٹ پادری بھی آیا ہوا تھا وہاں اور کہنے والوں نے بتایا کہ وہ اس طرح اچھلا ، جس طرح کسی نے اسے سوئی چھودی ہے۔میں نے کہا، دیکھو، جو سب سے بڑا تھا، اس کے منہ سے خدا نے یہ اعلان کروایا انسان کو مخاطب کر کے کہ انہیں کہہ دو، بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔تو وہ جو بہر حال اس سے جو نئیر ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، وہ اور ان کے ماننے والے تم پر برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔اس پر خوشی کی زبر دست لہر دوڑی افریقنز میں اور وہ پادری پریشان ہوئے کہ ہماری برتری کو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔حقیقت یہی ہے۔اسلام نے اس اعلان کے ساتھ دنیا کا دل جیتا ہے، دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔بلال، جو اپنے آقاؤں کا ، جو حاکم وقت تھے، مکہ میں غلام تھا۔ان کے کوڑے کھایا کرتا تھا، اس بلال کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا دیا کہ خلیفہ وقت بھی اسے مخاطب کر کے کہتے تھے، سیدنا بلال“ کہیں دنیا میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ہمارے ہاں بھی ہندؤوں کی روایتیں چلی آ رہی ہیں کہ یہ پٹھان ہے اور یہ وہ ہے اور یہ وہ ہے۔احمدیت اور اسلام میں پٹھان اٹھان کوئی نہیں۔سارے مسلمان ہیں۔ہاں، إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات: 14) نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جو زیادہ عزت پائے گا، دنیا کی نگاہ میں وہی زیادہ معزز بن جائے گا۔خدا تعالیٰ کی نگاہ سے گر کے نہ تمہارا امغل ہونا ، نہ تمہارا سید ہونا ، نہ تمہارا پٹھان ہونا ، نہ تمہارا چوہدری ہونا، نہ راجپوت ہونا قطعاً کوئی معنی نہیں رکھتا۔اگر تم خدا کی بات نہیں مانتے ، اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کے لئے تیار نہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ دنیا بھی تمہیں جو تیاں مارے گی اور تمہاری کوئی عزت نہیں کرے گی۔726