تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 723
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 02 نومبر 1980ء نو صوبے تھے، پھر بعد میں وہ بارہ بنے اور اب انہیں صوبے کر دیئے گئے ہیں ، سارے نائیجیریا کے۔تو بہت سے صوبے ہیں اور بہت سا علاقہ ایسا ہے، جہاں عثمان فودی، جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے ایک صدی پہلے اس علاقہ کے مجدد ہو کر آئے۔دنیوی سیاست میں تو نہیں لیکن ویسے دوحصوں میں ان کے دو بیٹوں کی اولا د کا اتنا اثر ہے کہ وہاں کے صوبہ کا گورنر بھی ان سے مشورہ کیے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔ان کے چھوٹے بیٹے کی جو اولاد ہے، اس میں تو تعصب نہیں۔انہیں رائل بلڈ ( Royal Blood ( شاہی خون کے نام سے پکارا جاتا ہے، ان کی زبان میں۔ان میں بعض احمدی بڑے دلیر قسم کے ہو چکے ہیں، عثمان فودی کی اولاد میں سے۔اور دوسرے صوبے میں یہ لوگ پڑھے لکھے ہیں۔اتفاق یہ ہے کہ عثمان خودی کے وہ صاحبزادے، جن کا نام عبد الرحمن تھا، وہ بڑے عالم اور تفقہ فی الدین رکھنے والے تھے۔بہت سی عربی میں کتابیں لکھی ہیں۔میں نے بھی ان میں سے بعض پڑھی ہیں۔ان کی اولاد میں سے جو اس وقت ہیں وہاں ، وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں۔لیکن متعصب بڑے ہیں۔ان کے علاقے میں تو کوئی احمدی گھس ہی نہیں سکتا تھا۔اتنی مخالفت تھی۔لیکن اس زمانے میں بھی ان کا داما داحمدی تھا اور چھپا ہوا تھا۔لیکن 1970ء میں جب یہ نصرت جہاں کا منصوبہ جاری ہوا اور وہاں سکول کھلا تو ہمارے قائم کردہ ایک سکول میں ایک وزیر آئے اور وہاں ان کے منہ سے کچھ باتیں احمدیت کی تعریف میں نکلیں کہ ہمارے احمدی حیران ہوئے کہ یہ اس خاندان سے تعلق رکھنے والا ان کا داماد ہے اور یہ ایسی باتیں کیسے کہہ گیا، احمدیت کے حق میں؟ کوئی دوست ان کو ملے تو وہ کہنے لگے، میں تو چھپا ہوا احمدی ہوں۔میں تو سکول کے زمانے سے احمدی ہوں۔اور میرے جیسے چار، پانچ اور بھی ہیں، یہاں احمدی چھپے ہوئے ، جو بڑے بڑے عہدوں پر ہیں، اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے۔بہر حال یہ اس زمانے کی بات ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور وہاں دو سکول جماعت احمدیہ نے نصرت جہاں سکیم کے ماتحت کھولے اور ہمارے ٹیچر وہاں گئے اور اثر ہوا اور جو عدم علم اور جہالت کی وجہ سے خیالات تھے، ان میں ایک تبدیلی آنی شروع ہوئی۔بہت سے ہونسا کے رہنے والے باہر ادھر ادھر گئے ہوئے تھے ، وہ بھی احمدی ہوئے۔پھر واپس آئے۔حالات بدلتے رہتے ہیں، ملکوں میں۔ان کے حالات بھی بدلے اور اب یہ حال ہے۔ایک میں مثال دوں گا، یوں تو بہت سی مثالیں ہیں۔میں یہاں سے جب جانے لگا دورے پر تو نائیجریا سے ایک خط ملا، جس کا میں نے کہا، جواب دے دیں۔پھر سفر میں مجھے خط ملا اور خط یہ تھا ، ( یہ تبدیلی، جس کو میں ذہنی انقلاب کہتا ہوں ، اس سے اس کا پتہ لگتا ہے۔انہوں نے لکھا کہ فلاں صوبے میں آبادی کی نسبت 723