تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 681 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 681

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم حضور نے توجہ دلائی کہ ارشادات فرمودہ دوران دورہ مغرب 1980ء سرمایہ جمع کر کے دنیا کے بعض دوسرے ملکوں میں جا کر وہاں تجارتی کاروبار کر کے یا بہت سستے داموں ملنے والی زرعی زمینیں خرید کر اور زرعی فار میں قائم کر کے اپنا مستقبل بھی بنا سکتے ہیں۔اور وہاں ساتھ کے ساتھ قرآن کی اشاعت کر کے وہاں کے لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب بھی بن سکتے ہیں۔اس کے ثبوت میں حضور نے ان احمدی گھرانوں کی مثال دی جو کینیڈا کے شہر کیلگری میں جا کر آباد ہوئے ہیں اور وہاں تجارت اور زراعت کے ذریعہ اپنا ستقبل بھی بنارہے ہیں اور قرآن مجید کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے اور دور دور تک اس کی اشاعت کرنے میں بڑی سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔حتی کہ قطب شمال کی قریب ترین آبادی میں بھی قرآن مجید کا پیغام پہنچانے اور وہاں اسے عام کرنے کی انہیں توفیق ملی ہے۔انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں سرگرمی دکھائی۔خدا تعالیٰ ان کے لئے اشاعت قرآن کی نئی نئی راہیں کھولتا چلا جارہا ہے۔آپ میں سے جو بھی اشاعت قرآن اور تبلیغ اسلام کی نیت سے خدا تعالیٰ کی راہ میں آگے قدم بڑھائے گا۔خدا تعالیٰ اس کے لئے خدمت کی نئی راہیں کھولتا اور اپنی رحمت کے جلوے ظاہر کرتا چلا جائے گا۔حضور نے فرمایا:۔” جب تک مسلمانوں میں خدمت اسلام کی نیت سے باہر نکلنے اور ہمت سے کام لے کر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے آگے بڑھنے کا جذبہ قائم رہا، وہ اس وقت کی معلومہ دنیا میں خود پھیلتے اور اسلام کو پھیلاتے چلے گئے اور اسلام دنیا میں غالب آئے بغیر نہ رہا۔اس ضمن میں حضور نے شمالی افریقہ کے ایک بزرگ کا ذکر کیا، جو بر برقبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔اور بتایا کہ وہ سینی گال چلے گئے اور وہاں اسلام کی تبلیغ شروع کی۔کسی نے ان کی آواز پر کان نہ دھرا۔لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور اپنے کام میں لگے رہے۔آخر میں وہ دریا کے بیچ میں بننے والے ایک قدرتی جزیرے میں ڈیرہ ڈال کر بیٹھ گئے۔اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا ان کی طرف کچھ ایسا رجوع کیا کہ وہی لوگ، جو پہلے ان کی بات نہ سنتے تھے، ایک ایک کر کے ان کے پاس آنے لگے۔انہوں نے انہیں قرآن سکھانا شروع کیا۔اور جنہیں انہوں نے قرآن سکھایا تھا، وہ اپنے اپنے قبائل میں واپس جا کر قرآن کریم کے نور کو پھیلانے لگے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ اسلام سینی گال اور اس کے آس پاس کے علاقوں پھیل گیا“۔681