تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 642
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری1980ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو بات واضح کی ہے، وہ یہ ہے کہ احمدیت کی زندگی کی دوسری صدی ، غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اس غلبہ اسلام کی صدی کے استقبال کے لئے وہ جماعت چاہیے، جس کے متعلق حضرت مسیح موعود نے فرمایا:۔صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا جب ہماری وہ صدی ( یہ ہجری صدی کی نہیں میں بات کر رہا ) ہماری زندگی کی صدی، جونو سال کے بعد آنے والی ہے، جب وہ پچھلی صدی پر نظر ڈالے، جو موجود ہو جماعت اس کے اوپر ، اس صدی کی نگاہ پڑے، وہ کہیں صحابہ میں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے عشق کرنے والے، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے، اسی طرح نوع انسانی کے خادم، اسی طرح ظلمات کو دور کرنے والے، اسی طرح بھائی چارے اور اخوت کو قائم کرنے والے ہیں، یہ لوگ وغیرہ وغیرہ۔میں نے کہا سات سواحکام ہیں، ہر ایک پر چلنے والے ہیں، یہ لوگ۔تب وہ صدی غلبہ اسلام کی ہوگی مرکز احمدیت پاکستان میں رہتے ہوئے۔ہوگی تو ضرور لیکن اسے باہر نہ جانے دو۔پس دعا ئیں کرو اور بہت دعائیں کردو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کا مقام پہچانے کی توفیق عطا کرے۔بڑا بلند ہے مقام، جہاں تک اللہ تعالیٰ آپ کو لے جانا چاہتا ہے۔قرآن کریم میں ایک جگہ آتا ہے ہے، کسی شخص کے متعلق وہاں مثال دی ہے کہ میں تو ا سے آسمانوں تک پہنچانا چاہتا تھا، خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ میں تو اسے آسمانوں تک پہنچانا چاہتا تھا مگر یہ نالائق جھک گیا زمین کی طرف۔خاک میں ملنے کی اس نے کوشش شروع کر دی۔اس طرح نہیں بننا۔بلکہ جب خدا تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ہمیں آسمانوں کی بلندیاں اور رفعتیں عطا کرے تو خدا تعالیٰ ہمیں ہر اس ناپاکی اور پلیدگی اور گناہ اور غفلت سے محفوظ رکھے، جس کے نتیجہ میں ہم وہاں نہ پہنچ سکیں، جہاں وہ ہمیں پہنچانا چاہتا ہے۔پس دعائیں کریں اور اپنی زندگیوں میں انقلاب عظیم بپا کرنے کی کوشش کریں۔اور اپنے آپ کو اس وقت کے لئے تیار کریں، جب جماعت احمدیہ بحیثیت جماعت اپنی زندگی کی اگلی صدی میں داخل ہورہی ہوگی اور خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمانوں پر ان کے لئے دعا کر رہے ہوں گے اور خدا سے کہہ رہے ہوں گے کہ اے خدا! تیرے یہ بندے واقع میں اس قابل ہیں کہ اس صدی میں جو آ رہی ہے، آگے تیرے دین کو ساری دنیا میں اس معنی میں غالب کر دیں۔میں مثال دے دیتا ہوں۔ایک پریس کانفرنس میں جرمنی میں اسلامی تعلیم میں بتارہا تھا تو ایک صحافی مجھ سے پوچھنے لگا ( باتیں سن کے اس پر اثر ہوا) کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے سارے 642