تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 636 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 636

خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 1980ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم زیادہ داخل ہونے شروع ہو گئے۔اس کے نتیجہ میں اس ملک میں اسلام کی نمائندگی کے بہتر سامان پیدا ہو گئے۔اسلام کے خلاف جو بغض تھا، وہ بہت حد تک دور ہونا شروع ہو گیا۔اب وہ اسلام کا نام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام غصہ کی بجائے احترام سے لینے لگ گئے ہیں۔ابھی کچھ ہیں ایسے شقی القلب اور بے نصیب ، جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو پہچانا نہیں۔جنہوں نے پہچانا ہے، انہوں نے بھی ابھی پوری طرح نہیں پہچانا۔اتنا پہچان گئے ہیں کہ ایک ایسی ہستی ہے، جس کے متعلق جب بات کریں تو عزت واحترام سے بات کرنی چاہیے۔سکنڈے نیوین کنٹریز (Countries) میں سے ایک ملک رہ گیا تھا، ناروے۔ناروے میں ڈنمارک اور سویڈن سے زیادہ جماعت ہے۔لیکن وہاں نہ مشن ہاؤس تھا، نہ کوئی نماز پڑھنے کی جگہ تھی۔یہ بہت مہنگے ملک ہیں۔انگلستان سے بھی زیادہ یہ مہنگے ملک ہیں۔نہ پیسہ تھا کہ اتنی مہنگی کوئی عمارت خرید لی جائے ، جو ہمارے کام آئے ، نہ زمین مل رہی تھی۔بہر حال کوششیں جاری تھیں۔پچھلے سال اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ایک بہت بڑی عمارت کافی بڑی رقم، جو خدا تعالیٰ نے خود اپنے فضل سے مہیا کردی تھی ، وہ خرچ کرنی پڑی اور وہاں وہ عمارت مل گئی۔نماز کے لئے جگہ بن گئی، لائبریری کے لئے جگہ بن گئی۔اور بڑی خوشی کے سامان وہاں کی مقامی جماعت کے لئے بھی اور آپ کے اور میرے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دیئے۔پین عیسائیت کا گڑھ ہے۔کیتھولزم بڑا گہر اوہاں گڑھا ہوا ہے۔اسلام سے نفرت، وہاں عام پائی جاتی ہے۔اس وجہ سے کہ ایک وقت میں مسلمان وہاں کا حاکم تھا۔پھر اپنی ہی غفلتوں کے نتیجہ میں اللہ تعالی کے پیار کو وقتی طور پر انہوں نے کھویا۔اور سارا ملک بھی کھویا، اس کے نتیجہ میں۔اور جہاں مشرق و مغرب، شمال و جنوب میں مسلمان ہی مسلمان اور اسلامی معاشرہ اور اسلام کی شان اور خدا تعالیٰ کی محبت کے جلوے ان کی زندگی میں نظر آ رہے تھے، وہاں بت پرستی شروع ہوگئی۔اور ایک عاجز انسان کو خدا بنا کے انہوں نے وہاں زندگی گزارنی شروع کی۔اور طبعاً ان حالات کے نتیجہ میں انہیں بڑی سخت نفرت اسلام اور مسلمان سے تھی۔نام نہیں لیتے تھے۔ہماری سب سے بڑی مسجد مسلمانوں نے اپنے عروج کے زمانہ میں جو بنائی ، وہ سپین میں ہے۔مسقف چھت اس کی بہت وسیع ہے۔ایک منزلہ چھت میں جان کے کہہ رہا ہوں۔کیونکہ بعض مسجدیں بنی ہیں، چھ، چھ منزلہ ان کی بات نہیں میں کر رہا۔ایک منزل ہے اور چالیس ہزار نمازی مسقف چھت کے نیچے نماز پڑھ سکتا ہے۔اتنی بڑی مسجد ہے، جو ہاتھ سے نکل گئی۔انہوں نے وہاں ایک گر جا بنایا۔ساری مسجد کو گر جانہیں بنا سکتے تھے۔کیونکہ ہر دن کا ہرلمحہ جو تھا، وہ ان کا مضحکہ اڑاتا۔636