تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 620
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1979ء 74 وو تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد پنجم یہ آج کے لئے جو میں نے بتایا نا فضل تو بڑے ہیں۔تھوڑے سے نوٹ کئے ہیں، وہ بھی 7 صفحوں پر تھے۔تو دو، ایک میں سے گزروں گا میں، انشاء اللہ۔اچھا اب ہم ماڈی ضرورتیں جو ہیں، ان کو لیتے ہیں۔بات یہ ہے کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ہمارے کارکن جو ہیں ، وہ بڑی قربانی دے رہے ہیں۔بعض قربانی سمجھ کے دے رہے ہیں، بعض تکلیف محسوس کرتے ہوئے پھنسے ہوئے ہیں۔بعض بشاشت رکھتے ہیں، کہتے ہیں، خدا تعالیٰ ہمیں جزا دے گا، بعض تنگ آئے ہوئے ہیں ہم سے۔ان کو تو میں کہا کرتا ہوں۔میرے سامنے ذرا سا بھی کوئی اشارہ کرے تو میں اس کو مشورہ دیتا ہوں تمہیں ہم یہاں جبر نہیں بٹھا رہے، جاؤ کہیں اور اپنی روزی تلاش کرو۔یہ ہم مانتے ہیں کہ اس مہنگائی میں تم پہ بڑی سختی ہو رہی ہے۔پھر بھی صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید اور وقف جدید چھوٹی چھوٹی رقمیں خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور لبنہ کی طرف سے دی جاتی ہیں۔گزشتہ سال امداد کے طور پر بڑی رقم اپنے کارکنوں میں تقسیم کی ہے۔(لیکن باہر والے بھی ایسے ہیں، جو ستحق ہیں، ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، نہ کیا جاتا ہے۔) پندرہ لاکھ ، اکاون ہزار روپیہ۔ان کے جو گزارے ہیں، ان کے علاوہ پندرہ لاکھ ، اکاون ہزار روپیہ تقسیم ہوا ہے۔اس کے باوجود میں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پھر بھی ان کی ساری ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں لیکن جو جماعت کے پاس نہیں، وہ دیا نہیں جاسکتا۔اور ایک جگہ پر آ کے جو تر جیحات ہیں، ان کے مد نظر اگر یہ سوال ہو کہ آپ نے مبلغ غیر ممالک میں بھیجنے ہیں یا اپنے کارکنوں کے پیٹ بھرنے ہیں تو ہم کہیں گے، جو خوشی کے ساتھ بھوکے رہ کے مبلغوں کو باہر بھیجنے کے لئے تیار ہیں، وہ رہیں۔لیکن مبلغوں کو بہر حال باہر جانا چاہیے۔کیونکہ اصل مقصد جماعت احمدیہ کی زندگی کا یہی ہے کہ اسلام کو دنیا میں پھیلایا جائے۔صد سالہ جوبلی منصوبہ۔1973ء کے جلسے میں، میں نے اس کا اعلان کیا تھا۔اور یہ جو ہے، اگلی صدی ہماری زندگی کی ، جماعتی زندگی کی ، جو 23 مارچ 1889ء سے شروع ہوتی ہے۔لیکن 23 مارچ سے یہ پروگرام شروع ہونا ہے اور جلسہ سالانہ پہ آکے اپنے عروج کو پہنچنا ہے۔شروع میں جو منصوبے بنائے گئے تھے، ان میں اب حالات کے بدلنے سے کچھ تبدیلیاں بھی کرنی پڑیں گی۔وہ میں خطبے میں بیان کروں گا، اس وقت اس کا وقت نہیں ہے۔یہ جو بتانے والی بات ہے، کچھ تو میں نے پہلے بتادی کہ کثرت سے انگریزی ترجمہ قرآن کی اشاعت کا سامان ہو گیا ہے۔جو امریکہ میں ترجمہ چھپا ہے۔(میری آواز پہنچ رہی ہے، آپ کو ) جو امریکہ میں ہیں ہزار میں نے بتایا، ابھی چھپا ہے۔اس سے ہمیں ہزار تر جمہ ملنے سے ہمیں خوشی نہیں ہوئی، جتنی اس بات سے کہ ایک بہت بڑا مطبع خانہ ہے، جس کے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہو گیا۔اور 620