تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 619
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1979ء میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ اگلے دس سال کے بعد آنے والے سو سال میں جس صدی کو میں غلبہ اسلام کی صدی کہتا ہوں، ہمیں ایک ہزار سائنسدان اور محقق چاہئیں۔اور یہ جو اس سے پہلے دس سال ہیں، اس میں ایک سوسائنسدان اور محقق چاہئیں۔لیکن آج تک یہ ایک پیشگوئی تھی، جس کا ایک بھی مظہر ہمارے سامنے نہیں تھا۔یعنی کچھ اس طرح وہ ابھرا ہو اور آسمانوں تک پہنچا ہو اپنی علمی تحقیق میں کہ واقع میں اس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ علم اور معرفت میں اس نے کمال حاصل کیا اور اپنے سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیا ( اپنے حلقہ تحقیق میں )۔آئن سٹائن بہت بڑا سائنس دان گزرا ہے، انہوں نے بھی کام کیا اور نا کام ہوئے۔اور ڈاکٹر سلام صاحب نے کام کیا، اس پر اور وہ کامیاب ہوئے اور ان کو نوبل پرائز ملا اور دنیا کے چوٹی کے سائنسدانوں میں پہنچ گئے“۔اس سے بھی اہم دعا یہ کریں اپنے رب سے کہ اے خدا ! مرزا ناصر احمد کی یہ خواہش ہے کہ اگلے سوسال میں ایک ہزار انتہائی غیر معمولی ذہین سائنسدان جماعت احمدیہ کو ملے۔تو اس خواہش کو پورا کر اور اس خواہش کے لئے جو وہ دعائیں کریں، ان کو بھی قبول کر اور جو ہم کریں ، انہیں بھی قبول کر۔میری خواہش یہ ہے کہ اگلے دس سال میں ہم سوسائنسدان اچھے خدا سے مانگیں۔یہ نہیں میں کہتا، ہم پیدا کر دیں۔میں کہاں سے پیدا کر سکتا ہوں۔آپ نے کہاں سے پیدا کر لینے ہیں۔ساری دنیامل کے ایک اچھا سائنسدان پیدا نہیں کر سکتی۔میں یہ خواہش رکھتا ہوں کہ اگلے دس سال میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک سو چوٹی کا سائنسدان عطا کرے اور میری یہ خواہش ہے کہ ان دس سال کے بعد اگلے سو سال میں ، جس کو میں غلبہ اسلام کی صدی کہتا ہوں، ایک ہزار سائنسدان ہر فیلڈ کا، ایک فیلڈ کا نہیں، سائنس کے ہر میدان میں بکھرا ہوا، پھیلا ہوا، آسمانوں کی سیر کرنے والا ، دماغ رکھنے والا، اللہ تعالیٰ ہمیں عطا کرے۔" بہر حال یہ کتابوں کے ذکر کے ساتھ علم کا ذکر آیا اور علم کے ذکر کے ساتھ اس وعدہ اور بشارت کا ذکر آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان پہنچانے والوں کے علوم تحقیق میں برکت ڈالی جائے گی اور وہ اپنے اپنے میدان میں اس جگہ پہنچیں گے کہ دوسروں کا منہ بند کرنے والے ہوں گے۔اس کا ایک پہلو آ گیا سامنے کل کو ایک دوسرا آ جائے گا پھر تیسرا آ جائے گا۔دروازہ کھل گیا، اب آگے ہی آگے چلیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔پھر میں نے اسی سلسلہ میں اپنی دو خواہشات کا ذکر کر دیا اور دعاؤں کا ذکر کر دیا، وہ آپ کریں۔ہم آپ کو یاد دلاتے رہیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ“۔مطبوع روزنامه الفضل 25 فروری 1980ء) 619