تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 612 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 612

اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1979ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دوں۔میں کئی سال آکسفورڈ میں پڑھتا رہا ہوں۔اور جو میں نے سمجھا تھا کہ میں کیوں وہاں بھیجا گیا ؟ مجھے اجازت دی گئی اور حضرت مصلح موعودؓ نے وہاں مجھے بھیجا اور خرچ ہوا، مجھ پر۔یہ اس لئے نہیں تھا کہ میں ان سے کچھ سیکھوں۔بلکہ اس لئے تھا کہ میں اس قابل ہو جاؤں کہ ان کو کچھ سکھا سکوں، اپنے وقت پر۔اور ان کو غور سے زیر مطالعہ رکھو۔میں نے ان کی زندگی، ان کی عادتوں کا بڑے غور سے مطالعہ کیا۔علم کے میدان میں ایک چیز جو نمایاں طور پر، میرے دماغ پر اثر انداز ہوئی ، وہ یہ تھی کہ ان کا اگر کوئی ایک شخص صرف ایک چھپی ہوئی صداقت قوم کے سامنے پیش کرتا ہے۔(اس وقت پیش کرتا تھا، میں کہنے لگا تھا، پھر میں نے بدل دیا کیونکہ وہی طریق جاری ہے۔) تو وہ اس کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔کیونکہ ساری قوم نے مل کے آگے بڑھنا ہے۔اگر ہر سال کسی قوم کے دس ہزار آدمی ( دس کروڑ میں سے ) ایک نئی چیز اپنی قوم کو دیتے ہیں تو اس قوم کے پاس دس ہزار نئے علوم کا خزانہ جمع ہو گیا۔وہ اس حقیقت کو سمجھتے تھے۔ان کی آنکھ ان فقروں کی طرف، ان عبارتوں کی طرف نہیں جاتی تھی پڑھتے وقت ، جو وہ دوہرا ر ہے تھے، پہلوں سے حاصل کردہ علوم کے متعلق۔صرف وہ ایک نئی بات، جو انہوں نے کہی ہوتی اور ان کی وضاحت کی ہوتی تھی، اس کو وہ لیتے تھے اور ان کو وہ سروں پر بٹھا لیتے تھے۔کہتے تھے، بڑے خادم ہیں یہ۔اگر آپ کوشش کریں تو ساری کمزوریوں کے باوجود ہمارے اخبار اور رسالے ایک بات تو آپ کو ضرور بتا دیں گے۔ہر موضوع پر ، جو آپ سمجھتے ہوں گے کہ آپ کو اس سے پہلے معلوم نہیں تھی یا اگر کبھی معلوم تھی تو اسے آپ بھلا چکے تھے۔یہ بھی بڑا فائدہ ہے۔اگر آپ آٹھ ، دس رسالے، جو چھپتے ہیں، ان کو پڑھیں ، ماہانہ جو ہیں۔تو ایک سو، ہمیں باتیں آپ کو مل گئیں۔اور روزانہ جو الفضل چھپتا ہے، اس میں سے ایک بات اگر آپ کو ایسی ملے، جو آپ کی زندگی میں حسن پیدا کرنے والی ثابت ہو آئندہ تو سال میں شاید 360 یاوہ چھٹی کرتے ہیں اگر وہ تو اس سے کم اتنی باتیں مل گئیں۔لوگ کہہ دیتے ہیں الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کا ہونا چاہیے۔میں بھی کہتا ہوں، الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کا ہونا چاہیے۔وہ کہتے ہیں ( بعض لوگ) کہ اگر الفضل کا ہر مضمون اعلیٰ پایہ کا نہیں تو اس کو لے کے پڑھنے کی کیا ضرورت؟ میں کہتا ہوں کہ اگر الفضل کا ایک مضمون بھی اعلیٰ پایہ کا ہے تو اسے لے کے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔میں اس سے بھی آگے جاتا ہوں۔میں کہتا ہوں اگر الفضل میں ایک ایسا مضمون ہے، جس میں ایک بات ایسی لکھی ہے، جو آپ کو فائدہ پہنچانے والی ہے تو اس فائدہ کو ضائع نہ کریں آپ، اگر آپ نے بحیثیت قوم ترقی کرنی ہے۔کتا بیں بھی بہت سی چھپتی ہیں ہر سال۔اب تو اتنی ہوگئی ہیں کہ اصولی طور پر ہی باتیں کی جاسکتی ہیں۔سوائے ان اخباروں کے متعلق اور کتابوں کے 612