تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 552
اقتباس از خطاب فرموده 29اکتوبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم پاتے ہیں۔پس یہ بے فکری کا اور بے پرواہی کا زمانہ نہیں، نہ میرے لئے ، نہ آپ کے لئے ، نہ میرے بچوں کے لئے اور نہ آپ کے بچوں کے لئے۔ہمیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے ، جب تک کہ ہم ظلمات کی یلغار کو، جیسا کہ پیشگوئی کی گئی ہے اور بشارت دی گئی ہے، اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے شکست نہ دے دیں۔اور اللہ ، جو نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ہے، اس کا نور ساری دنیا میں پھیل جائے اور انسان کا دل اس سے منور ہو جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد پورا ہو جائے کہ نوع انسانی کو امت واحدہ بنا دیا جائے۔اور جو امت واحدہ سے باہر رہنے والے ہوں، ان کی دنیا میں کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔اور دنیا کی بڑی بھاری اکثریت سارے انسانوں کا 95 فیصد یا 8 9 فیصد یا 99 فیصد یا ہزار میں سے 999 مسلمان ہو چکے ہوں۔اس قسم کے حالات انشاء اللہ پیدا ہوں گے۔لیکن یہ حالات جو ہمیں افق غلبہ اسلام پر روحانی آنکھ سے نظر آ رہے ہیں، اس کے لئے ہمارے جسموں اور ہماری روحوں نے قربانیاں دینی ہیں۔لیکن یہ قربانیاں محض مادی قربانیاں نہیں ہیں۔بلکہ ان میں بنیادی حیثیت رکھنے والی یہ قربانی ہے کہ ہم اپنے وقتوں کو خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں میں خرچ کریں کہ خدا تعالیٰ نوع انسانی پر رحم فرمائے اور انسانیت، جو آج گندی زیست کی دلدل میں نیچے ہی نیچے دھنستی چلی جارہی ہے، میں کہتا ہوں کہ گردن تک ڈوب گئی ہے ، خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کو منہ سے پکڑیں اور اوپر نکال لیں۔اور خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر سے انسان کو محفوظ کر لیا جائے۔اور وہ خدا تعالی کو پہچانے لگیں، اس کی Recognition معرفت اور عرفان انہیں حاصل ہو۔اس قدر پیار کرنے والے رب سے وہ دور پڑے ہیں، اتنی محرومی! اور اس محرومی کا انہیں احساس نہیں۔محسن اعظم " کو وہ پہچانتے نہیں اور اس کے احسان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اتنا احسان ہے، اتنا احسان ہے کہ سمندروں کے پانی تو ایک قطرہ ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کے سمندر کے مقابلہ میں۔لیکن ان لوگوں کو کوئی احساس ہی نہیں، کوئی علم ہی نہیں، کوئی توجہ ہی نہیں۔ساری دنیا کو اس طرف لے کر آنا ، ہماری ذمہ داری ہے۔لیکن تلوار کے زور سے یا سر پھوڑ کر یا ایٹم بم استعمال کر کے یا اس سے بھی زیادہ مہلک ہتھیار، جو آج انسان ایجاد کر رہا ہے، اس کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خدا تعالی، جو اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے، اس سے دعائیں کر کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جنہوں نے ہمارے لئے 552