تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 545
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم چھین اقتباس از خطاب فرموده 29اکتوبر 1978ء لوگ مختلف باتیں کرتے رہتے ہیں۔لیکن وہ باتیں ہمارے دل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار تو نہیں ن سکتیں۔اور نہ مکہ کی عظمت کو ہمارے دل سے مٹاسکتی ہیں۔پاکستان تو بعد میں بنا ہے، پہلے ہندوستان تھا۔جس میں ہمارے یہ علاقے بھی شامل تھے۔1860ء اور 1880ء کے درمیان انہوں نے اس قسم کے اعلان کئے کہ ہندوستان کے سارے مسلمان عیسائی ہو چکے ہوں گے۔یہاں ایک علامہ تھے، جو بعد میں پادری بن گئے ، عمادالدین ان کا نام تھا۔انہوں نے ایک مضمون لکھا، جو ایک عیسائی کا نفرنس میں پڑھا گیا۔میرا خیال ہے کہ اس کی بھی ایک کاپی یہاں ہمارے پاس موجود ہے۔اس میں انہوں نے کہا کہ وہ وقت آنے والا ہے کہ اس کے بعد اگر کسی ہندوستانی عیسائی کے دل میں کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ مرنے سے پہلے کسی مسلمان کامنہ تو دیکھ لے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔لیکن اب حالات بدل گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے طفیل خدا تعالیٰ سے جو دلائل عیسائیت کے خلاف اور حقانیت اسلام کے حق میں ملے ، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم نے جو کانفرنس کی ، اس کا بہت اثر ہوا۔ہم ایک چھوٹی سی جماعت ہیں، غریب کی جماعت کوئی اقتدار نہ رکھنے والی جماعت لیکن قربانیاں کرنے والی جماعت، جس کے دوسو کے قریب فدائی اپنے خرچ پر پاکستان سے اس کا نفرنس میں چلے گئے ، غریب غریب لوگ۔میں شکلیں دیکھتا تھا تو حیران ہوتا تھا کہ انہوں نے پیسے کہاں سے اکٹھے کئے یہاں آنے کے لئے ؟ ان کو تو کسی نے ایک دھیلہ باہر سے مدد نہیں دی۔اپنے خرچ پر گئے۔ان کے دلوں میں جوش تھا کہ عیسائیت کے مرکز سے خدائے واحد و یگانہ کی بزرگی اور کبریائی کی آواز بلند ہوگی ، ہم بھی جا کر اس میں شامل ہوں۔جس وقت اس کا نفرنس کا چرچا ہوا۔دو نمایاں اثر ہوئے۔ویسے تو بہت سے اثرات ہیں۔لیکن یہ مضمون زیادہ لمبابیان نہیں کیا جاسکتا۔ابھی اسے بیان کرتے ہوئے ، ہم انشاء اللہ آگے بھی چلیں گے۔بہر حال دو باتیں بہت نمایاں ہیں۔ایک یہ وہ کپڑا، جو غالباً چودہ فٹ، تین انچ لمبا اور چارفٹ ، سات انچ چوڑا ہے۔جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب سے اترنے کے بعد مرہم لگا کر رکھا گیا تھا۔اور اس پر مرہم کے نشان اور حضرت مسیح کی شبیہ بھی ہے۔(لوگ کہتے ہیں بھیج یا غلط، یہ وہ جائیں۔اس کو کفن مسیح بھی کہتے ہیں۔اور شراؤٹ آف ٹیورن بھی کہتے ہیں۔کیونکہ وہ ٹیورن کے گرجا گھر میں ہے۔اس کے متعلق انہوں نے یہ اعلان کیا کہ مئی کے مہینے میں اس کا سائنسی طریقوں سے ٹیسٹ ہوگا۔اب سائنس نے بڑی ترقی کر 545