تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 540
اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم ملک میں، جہاں ان ملکوں کے لئے بظاہر بہت اچھا چھپتا ہے، پانچ ہزار کی تعداد میں چھپوایا۔اور اس قرآنی ترجمہ کی ایک کاپی بطور نمونہ میرے پاس لندن بھیجی اور ساتھ ہی یہ خط بھیجا کہ یہ تو ختم ہورہا ہے۔ہمیں فوری طور پر دوسرے ایڈیشن کے لئے خط لکھنا پڑ رہا ہے۔ہمارے تراجم بہت مقبول ہیں۔دن کے وقت بھی مقبول ہیں اور رات کے وقت بھی مقبول ہیں۔یعنی ایسے لوگ بھی ہیں، جو دن کی روشنی میں آکر قرآن کریم لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس ترجمہ سے، جو آپ نے کیا ہے، ہمیں تسلی ہوتی ہے۔اور ایسے بھی ہیں، جو دن کے وقت آتے ہوئے شرماتے ہیں یا ڈرتے ہیں اور رات کو اندھیرے میں چپکے سے آتے ہیں، کہتے ہیں کسی کو نہ بتا نالیکن اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں۔ہمیں قرآن کریم کا ترجمہ دے دو۔دونوں قسم کے لوگ ہیں۔یورپ اور امریکہ میں رات کو آنے والے میرے خیال میں کم ہی ہوں گے یا نہ ہوں گے۔لیکن افریقہ کے ممالک میں بہت سے ایسے بھی ہیں ، ہمارے پاس خبر میں آتی رہتی ہیں۔بہر حال یہ ایک کام کرنا ہے۔اگلی صدی کے آنے سے پہلے یہ کام شروع ہو جانا چاہیے تا کہ جس وقت وہ صدی آئے اور خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے اور کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہونے لگیں اور آر سے آکر کہیں کہ ہمیں اسلام کے متعلق کتابیں دو، قرآن کریم کے تراجم دو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات دو، اسلام نے بچوں کو جو تعلیم دی ہے اور اسلام نے جو اخلاق سکھائے ہیں، اس کے متعلق ہمیں لٹریچر دوتو ہم یہ کتا بیں انہیں مہیا کر سکیں۔ہزاروں کتابوں کی ضرورت ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہمیں یہ جواب دینا پڑے کہ وہ تو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے؟ ہم علی وجہ البصیرت اس یقین پر قائم ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لئے پیدا کیا ہے۔اور اگر ہم نے اس کے مطابق کام نہ کئے تو ( اللہ محفوظ رکھے ) یہ خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آنے والی بات ہے۔میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ جتنا ہم کر سکتے ہیں، وہ ہمیں کر دینا چاہئے۔ہمارا خدا بڑا پیار کرنے والا ہے۔خدا یہ نہیں کہتا کہ جتنے کی ضرورت ہے، وہ کرو۔بلکہ خدا یہ کہتا ہے کہ جتنے کی طاقت ہے، وہ کرو۔اور ضرورت اور طاقت کے درمیان جو فرق ہے، وہ میں پورا کروں گا اور سارے کا ثواب تمہیں دے دوں گا۔وہ مفت کا ثواب دیتا ہے۔لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ جتنی طاقت ہے، وہ کر دو۔امریکہ کی بڑی آبادی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ پہلا قدم یہ ہے کہ دس لاکھ قرآن کریم کا ترجمہ امریکہ میں تقسیم کیا جائے ، فروخت کیا جائے۔اور ایسا انتظام کیا جائے کہ لائبریریاں خرید ہیں۔بہت بڑا بہ ہے۔کئی سال ہوئے میں نے اس کا اعلان کیا تھا۔پھر میں نے سوچا کہ اس کے لئے پیسے کہاں سے 540