تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 524

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 21 اکتوبر 1978ء پھر مشن ہاؤس کی سڑکوں پر آگئے۔اتنی بڑی جماعت اس جگہ بن گئی کہ جہاں جب عورتوں نے دعا ئیں کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور اپنی حقیر قربانیاں پیش کی تھیں تو میرا اندازہ ہے کہ چند افراد سے زیادہ نہ تھے۔اور 34 ء اور 38 ء کے درمیان تو میری دید ہے کہ میں نے کبھی مسجد کو بھرا ہوا نہیں دیکھا تھا۔اور اب میں نے اس مسجد کو اس کے قریب ایک اور بال کو مشن ہاؤس کے ہال کو اور پھر ایک بہت بڑے شامیانہ کو بھرا ہوادیکھا۔پھر اس سے باہر نکل کر لانز میں، پھر سڑکوں پر ہر طرف آدمی ہی آدمی تھے۔غرض خدا تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے والی اتنی بڑی جماعت وہاں پیدا ہوگئی۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قربانیوں کو قبول کیا۔جنہوں نے قربانیاں دی تھیں، اللہ تعالیٰ انہیں بہتر جزاء دے۔اور جو وفات پاچکی ہیں، ان کو اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کرے۔اور جنات میں ان کے درجات کو بلند کرے۔اور ان کی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی نیکیوں کی توفیق دے۔اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے پیار کے حصول کو آسان کر دے۔پھر آپ نے ہالینڈ کی مسجد بنائی۔وہ بھی مستورات کے چندوں سے بنی۔پھر کوپن ہیگن کی مسجد بنی۔لیکن اس کے بعد اب حالات بدل گئے ہیں۔صرف ہمارے ملک کے نہیں بلکہ دنیا کے حالات۔دنیا نے اقتصادی لحاظ سے جن راہوں پر ترقی کی، اس کے نتیجہ میں ان کی راہ میں بہت سی الجھنیں بھی پیدا ہو گئیں۔میں کوشش کروں گا کہ اقتصادیات کا مضمون آپ سب کے ذہن نشین کر دوں تا کہ آپ اس مسئلہ کو سمجھ جائیں۔ترقی کا ایک ذریعہ انہوں نے یہ اختیار کیا کہ مستقبل کی آمد آج خرچ کر دی۔نوٹ بنا کر یا بنک سے قرض لے کر جو آمد دس سال کے بعد ہوئی تھی، اس کو آج خرچ کر دیا۔مثلاً انگلستان میں ایک کمپنی بنی اور اس کو ایک ارب روپے کی ضرورت تھی۔لیکن ایک ارب روپیہ اس کے پاس نہیں تھا۔بلکہ اس میں سے صرف دو کروڑ روپیہ تھا۔بقیہ 98 کروڑ روپیہ کے لئے انہوں نے بنک سے کہا کہ ہمیں قرض دے دو۔یہ پیسہ جو انہوں نے لیا، اس سے انہوں نے ایک بہت بڑی فیکٹری بنائی۔پہلے زمین خریدی، اس پر خرچ کیا، پھر عمارت بنائی، اس پر خرچ کیا۔پھر جب تک آمد شروع نہ ہوئی، انہوں نے مزدوروں کو مزدوریاں دیں۔بہت بڑی فیکٹریاں ہوتی ہیں، ایک فیکٹری میں دس پندرہ بیس ہزار مزدور کام کرتا ہے۔ان کی مزدوریاں ابتدائی آمد میں سے نہیں نکل سکتی تھیں، اس لئے قرض میں سے نکالی گئیں۔اور اس کا بار مستقبل پر پڑا۔پھر افراط زر اور اس کے نتیجہ میں مہنگائی کا بار اس کے علاو دو سال کے بعد یا تین سال کے بعد وہ کمانے لگے۔پھر انہوں نے آہستہ آہستہ بنک کا قرضہ واپس کرنا شروع کیا۔لیکن اس عرصے میں 524