تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 522
خطاب فرمودہ 21 اکتوبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اپنانے چاہئیں، جو ان کی ورلی زندگی کو بھی خوشحال بنائے۔اور ( جسے آج وہ نہیں جانتے اور میں ان کی طرف سے کہتا ہوں ) ان کی اخروی زندگی میں بھی خوشحالی اور سکون اور اطمینان اور پیارا اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے بعد انسان کی جو کیفیت ہوتی ہے، اس کے سامان ان کے لئے پیدا کریں۔وہ دو باتیں یہ ہیں۔ایک تو یہ کہ خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کی جائیں۔اور دوسرے یہ کہ غیر ضروری باتوں اور ایسی باتوں سے، جو بے فائدہ ہیں، پر ہیز کیا جائے۔وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ خدا تعالیٰ کے حضور خشوع کے ساتھ جھکنا اور دعائیں کرنا ، اپنے نفس میں ایک بہت وسیع اور لمبا مضمون ہے۔اس وقت میں اس کے بعض حصوں کی طرف آپ کو توجہ دلاؤں گا۔اس وقت نوع انسانی کو دعاؤں کی ضرورت ہے۔کیونکہ جہاں تک ان کی عقل اور ان کی تدبیر کا سوال تھا، وہ تو نا کام ہو چکی ہے۔اور ان کی عقل اور ان کی تدبیر میں بڑی کثرت کے ساتھ وہ باتیں شامل ہو چکی ہیں، جو قرآن کریم کی اصطلاح میں لغو کہلاتی ہیں۔جب ہم ان سے بات کرتے ہیں کہ تم اس لغو میں پھنسے ہوئے ہو، اس گند میں دھنسے ہوئے ہو، جس کا ان کو بھی احساس ہے اور بتاتے ہیں کہ اس سے نکلنے کی ایک ہی راہ ہے کہ تم اس راستہ کو اختیار کرو، جو اسلام تمہیں بتاتا ہے تو وہ ہم سے نمونہ کے طالب ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہمیں نمونہ بتاؤ۔اور جہاں تک انسانی فطرت کا سوال ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ مطالبہ درست ہے۔اس لئے کہ خود قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ انسان کو ایک نمونہ اور ایک اسوہ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔چنانچہ ایک ایسا آئیڈیل ، ایک ایسا عظیم نمونہ، ایک عظیم مثال اور ایک مثالی زندگی جیسی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، اس کی زندگی کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسوہ حسنہ کہہ کر بیان کیا ہے۔میں آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ تعلیم جو تم ہمیں بتا رہے ہو، وہ تو دل کو اطمینان بخشتی ہے مگر اس پر عمل کرنے والوں کا نمونہ ہمیں دکھاؤ۔تو ان کا یہ مطالبہ درست ہے۔ان کو یہی مطالبہ کرنا چاہئے۔اور ہر وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتا ہے، اس کا یہ فرض ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی ایک جھلک ان کے سامنے پیش کرے۔لیکن میرا تعلق تو صرف جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں سے ہے، اس لئے میری مخاطب آج آپ ہیں۔اور آپ کی وساطت سے جماعت احمدیہ کے مرد اور ان کے بچے ہیں، جن کو ہم اطفال کہتے ہیں۔522